اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عالمی ادارہ خوارک و زارعت ایف اے او نے یمن پر سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے اس ہولناک جنگ کی وجہ سے یمن کی آدھی آبادی غذائی بحران کا شکار ہے۔ ایف اے او کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس جون کی نسبت اس سال ایسے افراد کی تعداد میں بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے جنہیں ضروری خوارک میسر نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تیئیس لاکھ افراد اندرون ملک نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور یہ تعداد ایک برس قبل کی تعداد سے چار سو فیصد زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ خوراک و زارعت کے مطابق سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایف اے او کے مطابق سن دو ہزار سولہ میں یمن کی غذائی ضروریات کے لیے اسے پچیس ملین ڈالر درکار ہوں گے۔
دوسری جانب برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی حکومت نے جنگ یمن کے دوران بڑے پیمانے پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔ سعودی حکومت کے لڑاکا طیارے شہری آبادیوں، بے گھر ہونے والے افراد اور پناہ گزینوں کے کیمپوں، شادی کی تقریبات اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔سعودی حکومت یمنی عوام کے خلاف جنگ میں کلسٹر بم بھی استعمال کر رہی ہے جن کا استعمال عالمی سطح پر ممنوع ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی حکومت نے اپنے بعض عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمنی عوام کے خلاف جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ دس ماہ سے جاری سعودی جارحیت کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زیادہ یمنی شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ اس غریب عرب اور اسلامی ملک کی بنیادی تنصیبات کو جان بوجھ کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲