27 جنوری 2016 - 16:21
سعودی تجزیہ نگار ایران کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

کھینچا تانی کے زور پکڑنے سے بہت سارے سوال سامنے آئے منجملہ یہ کہ کیوں سعودی عرب نے روابط منقطع کیے ؟ سعودیوں اور ان کے سیاسی ماہر افراد کی ایران کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ کیا وہ ایران کے ساتھ ہر سطح کے روابط کے خلاف ہیں یا یہ کہ ایران کی بڑھتی ہوئی ترقی اور اس کے نفوذ سے پریشان ہیں ،یا اصلا وہ کچھ اور ہی سوچتے ہیں ؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  ایران اور سعودی عرب کے درمیان تازہ تناو کہ جو بحران میں تبدیل ہو گیا جس کے چلتے ہم نے کچھ سعودی تجزیہ نگاروں کی رائے جاننے کی کوشش کی ؛ آزاد خیال سعودی نوابغ افراد کے دل و دماغ میں کیا ہے اس کو جاننا اس بحران کے حل میں مدد گار ہو سکتا ہے ۔

ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری سمجھوتہ قطعی ہو جانے اور آخر کار مشترکہ معاہدہ پر عمل ہو جانے کے بعد علاقے کے بعض ملک خاص کر سعودی عرب مضطرب اور پریشان ہو گئے ۔

سعودی عرب کا شیخ نمر کو قتل کرنے کا اقدام کہ بعض ماہرین نے جس کو ایران کو بھڑکانے کی خاطر سوچا سمجھا اقدام قرار دیا ہے ،اس کے بعد ایران میں سعودی سفارتخانے میں ہونے والا واقعہ اور ریاض کا  تہران کے ساتھ روابط ختم کرنے کا اقدام ایسی چیزیں تھی جنہوں نے تہران اور ریاض کے درمیان تناو کو منیٰ کے دلخراش واقعے کے بعد بحران میں تبدیل کر دیا ۔

کھینچا تانی کے زور پکڑنے سے بہت سارے سوال سامنے آئے منجملہ یہ کہ کیوں سعودی عرب نے روابط منقطع کیے ؟ سعودیوں اور ان کے سیاسی ماہر افراد کی ایران کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ کیا وہ ایران کے ساتھ ہر سطح کے روابط کے خلاف ہیں یا یہ کہ ایران کی بڑھتی ہوئی ترقی اور اس کے نفوذ سے پریشان ہیں ،یا اصلا وہ کچھ اور ہی سوچتے ہیں ؟

ایک غیر سرکاری ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز نے اس سلسلے میں اپنے گذارشات اور  اپنی بات چیت کے مجموعے میں کوشش کی ہے کہ بعض سیاسی ماہرین کی واقعی رائے کو من و عن منتقل کر دے تا کہ عام لوگ سعودیوں کے مختلف لوگوں کے طرز فکر کے بارے میں جان سکیں۔۔

ان میں سے بعض تجزیہ نگار تعصب کے ساتھ اور علاقے کے ثبات اور امن کو کمزور کرنے میں سعودیہ کے کردار کو مد نظر رکھے بغیر اس کی حمایت کرتے ہیں اور ایران پر الزام لگاتے ہیں  ،بعض دوسرے اگر چہ دو طرفہ روابط میں ایران پر الزام لگاتے ہیں لیکن شام جیسے مسائل میں زیادہ معتدل موقف رکھتے ہیں اور بعض کہ جو سعودیہ کے خلاف ہیں وہ سعودی عرب کی سیاست کو علاقے میں تناؤ کی وجہ مانتے ہیں ۔

"طراد ابن سعید العمری "،ایک سعودی تجزیہ نگار اور اسٹریٹیجک اسٹڈیز اور  سیکیوریٹی کے مطالعات کے مرکز کے  سربراہ ہیں ، سعید العمری ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو اگر چہ دو طرفہ روابط میں اپنے ملک کی حمایت کرتے ہیں لیکن شام اور علاقے کے دیگر مسائل کے بارے میں ان کے خاص نظریات ہیں کہ کبھی کبھی وہ زیادہ عادلانہ انداز میں تحلیل کرتے ہیں ۔مثلا جس زمانے میں عادل الجبیر نے سعودی عرب کی وزارت خارجہ سنبھالی تھی اور بشار اسد کو برطرف کرنے پر اصرار کیا تھا تو طراد نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ یہ چیز واقعیت سے دور ہے  کہ اس وقت ہم اسد کو ہٹانے پر زور دیں  جب کہ عرب ملکوں نے ابھی تک اپنے ابتدائی نظریات کا بھی اظہار نہیں کیا ہے ۔

انہوں نے گذشتہ اپریل(۲۰۱۵) میں ایک مضمون میں خاص کر ایران اور سعودی عرب کے روابط کے بارے میں دو ملکوں کے براہ راست مذاکرات کی حمایت کرنے کے ضمن میں لکھا تھا ؛ درست ہے سعودی عرب اور ایران میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ،لیکن یہ اختلافات ذرائع ابلاغ اور روزناموں کے ذریعے ختم نہیں ہو سکتے ،جس طرح کہ تاریخ کو سامنے لا کر اور شیعہ اور سنی کے مذہبی اختلافات مٹانے سے بھی ختم نہیں ہوں گے بلکہ راہ حل یہ ہے کہ اختلافات کو مشترکات کی بنیاد پر اور مشکلات کو حل کر کے اور رکاوٹوں کو دور کر کے ختم کیا جائے .....

طراد نے اس مقالے میں (اپریل ۲۰۱۵ ) ایران پر سخت تنقید کی تھی اور یمن میں فوجی کاروائی کی حمایت کی تھی ،لیکن لکھا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے ایک دوسرے کے رقیب ہونے کے مواقع ماضی کے مقابلے میں اس وقت زیادہ ہیں ،اور یمن میں طوفان قاطع اور جوہری طوفان نے دونوں ملکوں کو پہلے سے زیادہ سیاسی تال میل تک پہنچا دیا ہے ۔

اس وقت العمری نے اس مقالے کے ۹ ماہ بعد فارس نیوز کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ مشرق وسطی کی رہبری حاصل کرنے کی جد و جہد ہے اور یہی چیز دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی اصل وجہ ہے ۔

روابط کا منقطع ہونا ان کے نزدیک دونوں ملکوں کے لیے نقصان دہ ہے ، اور علاقے کے ثبات اور امن کے لیے بھی وہ روابط کو بچائے رکھنے کو ضروری  جانتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے روابط کا پھر سے بحال ہونا دونوں ملکوں کے حق میں ہے ۔

العمری اس کے باوجود کہ جوہری سمجھوتے کا علاقے اور سعودی عرب کے لیے کوئی نقصان دہ محسوس نہیں کرتے لیکن سمجھوتے کے سلسلے میں ان کی رائے مثبت نہیں ہے بلکہ وہ اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں ۔

طراد دو طرفہ روابط کے بارے میں ریاض کی بھرپور طرف داری کرتے ہیں اور گذشتہ ایک سال میں جو سعودی عرب نے جنگ کی آگ لگائی ہے اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے ۔

ذیل میں " العمری" کی بات چیت کو من و عن ملاحظہ فرمائیں :

۔ آپ کے خیال میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان اصلی مشکل کیا ہے ؟ مہربانی کر کے دونوں ملکوں کے الزامات ،اور جو کچھ ذرائع ابلاغ میں ہے اس سے دور رہتے ہوئے جواب دیجیے حقیقی اور واقعی اعتبار سے ۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان اصلی مشکل مشرق وسطی کی رہبری کو حاصل کرنا ہے ؛ سعودی عرب اس وقت اپنے کم سے کم پر امن باہمی زندگی اور احساس ذمہ داری کے یمن اور خلیج فارس کے ملکوں اور عرب ملکوں میں اپنے مفادات کے دفاع کی حالت میں ہے جب کہ ایران کی حالت ایک حملہ آور کی حالت ہے !

ایران اس طاقت کے خلاء سے کہ جو خلیج فارس کے عرب ملکوں اور دوسرے عرب ملکوں کے مجموعے سے عراق کے نکلنے کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے اور یہ چیز خود امریکہ کے قبضے کا نتیجہ تھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مسئلے میں شام کی کشمکش اور بہار عربی کی وجہ سے مصر کے الگ ہو جانے کو بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔

۔ اس وقت جو سعودی عرب نے ایران سے اپنا رابطہ توڑ لیا ہے تو آیندہ درمیانی عرصے میں یا لمبے عرصے میں اس کا اسے فائدہ ہو گا ؟ اور اگر ہوگا تو کیوں ؟

ایران سے رابطہ توڑنا نہ ریاض کے لیے اور نہ تہران کے لیے کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہے دونوں ملکوں کو اپنے ثبات امن اور ملتوں کی فلاح کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت ہے ،خوش فہمی میں مبتلا لوگ معتقد ہیں کہ حالیہ کھینچا تانی ایران اور سعودی عرب کے درمیان نشیب و فراز کے خاتمے کا آغاز ہے کہ جو گذشتہ تین دہائیوں سے چلے آ رہے ہیں ،لیکن بد بین لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ کھینچا تانی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے مقابلے پر لا کھڑا کرے گی اور اس سے فائدہ اٹھا کر کچھ بین الاقوامی طاقتیں ایران اور سعودی عرب کی دو ملتوں کی جنگ سے فائدہ اٹھا کر اپنے ہتھیار بیچنے کی کوشش کریں گی ۔

۔ سعودی عر ب جوہری سمجھوتے کے بارے میں کیا سوچتا ہے ؟ اس چیز کے پیش نظر کہ کہتے ہیں ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری سمجھوتہ ایران اور مغرب کے فوجی اور سیاسی ٹکراو سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے اور اس سمجھوتے سے مشرق وسطی اور اس کے لوگوں کو فائدہ ہو گا کیا سعودی عرب اس مسئلے سے آگاہ ہے یا خود کو نادان بنا رہا ہے ؟

سعودی عرب پر حکمران خاندان کے نظریے کے بارے میں مجھے کوئی اطلاع نہیں ہے  اور میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ جو کچھ وہ جانتے ہیں یا نہیں جانتے اس کے بارے میں پیشین گوئی کروں ؛ لیکن جو کچھ میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ جوہری سمجھوتے کا تعلق ایٹم بمب سے نہیں ہے بلکہ جوہری سمجھوتے کو لے کر یہ سارا جنجال مغرب اور منجملہ امریکہ اور ایران کے روابط میں ترقی یافتہ بہتری کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے ہے تا کہ امام خمینی رہ کے انقلاب کے بعد جو حالات پیدا ہوئے تھے وہ ختم ہو جائیں ۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مشرق وسطی میں بحران ایٹمی ہتھیار کے مالک ہونے کا دعوی کیے بغیر اس وقت بھی موجود ہے اور پروفیسر کینٹ والتز کے قول کی بنیاد پر ،ایٹمی ہتھیار جیسا کہ امریکہ اور روس اور پاکستان اور ھندوستان کے درمیان ہوا ہے صلح کے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے اس بنا پر ایران کا ایٹمی ہتھیار صرف ذرائع ابلاغ کا ایک شو تھا کہ جس کو مغرب نے درست کیا ہے اور اس کی تبلیغ کر رہا ہے اور اسرائیل بھی اسی ڈھول کو پیٹ رہا ہے۔

۔کیا  ایران کا جوہری سمجھوتہ سعودی عرب کے نقصان میں ہے ؟ اگر آپ کا جوا ب مثبت ہے تو یہ نقصانات کیا ہیں ؟

ایران کے جوہری سمجھوتے کا سعودی عرب کو کئی محسوس نقصان نہیں ہے ،لیکن غیر محسوس نقصانات ہیں ۔ اور وہ یہ ہیں کہ  یہ سمجھوتہ ایک مدت تک کے لیے ہے ،اور اس سے ایران کو موقعہ ملے گا کہ وہ اپنے علاقائی اور بین الاقوامی  سلیقے یعنی سیاست کی نوک پلک درست کر لے  اور اسے اپنی مرضی کے مطابق کر لے اور یہ مسئلہ امن اور ثبات کو ختم کر سکتا ہے ۔ خبر نگار کی وضاحت : یعنی ایسے موقعے پر سعودی عرب مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ،اور ایران بڑی طاقت بن جائے گا ااور یہ سعودیوں کی نظر میں خطر ناک ہے۔

۔ جوہری سمجھوتے کا سعودی عرب یا علاقے کو کیا فائدہ ہے ؟ آیا اس سمجھوتے کا عرب ملکوں کے لیے کوئی مثبت پہلو ہے ؟

 پہلی بات تو یہ ہے کہ جوہری سمجھوتہ ایک چیز ہے اور ایٹمی ہتھیار ایک الگ چیز ؛ ان دونوں میں خلط مبحث سب کے لیے گمراہ کن ہو سکتا ہے ۔ دوسری یہ کہ جوہری سمجھوتے کا بیلیسٹیک میزائل کی رقابت کے چلتے اور خلیج فارس کو جنگی مشقوں کے میدان میں تبدیل کرنے کے بعد کیا فائدہ ہے؟ اسلحے کی دوڑ کی وجہ سے تناو پیدا ہوتا ہے  اور ایران  اور اس کے ہمسایہ ملکوں  کے درمیان امن کی مشکل پیدا ہوگی ۔

۔ حال ہی میں سعودی عرب نے ۲۵ سال کے بعد بغداد میں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولا ہے ؛تو ریاض نے کیوں اتنی آسانی کے ساتھ تہران میں اپنے سفارت خانے کو بند کر دیا ہے یہ توجہ کیے بغیر کہ برطانیہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا لیکن سال ۲۰۱۵ میں ایران سے بار بار درخواست کرنے کے بعد اس نے جلد از جلد سفارتخانے کو دوبارہ کھولنا چاہا ،کیا علاقے میں  عرب ممالک  اور ایران کے درمیان کشمکش میں اضافہ ہونے والا ہے؟ اور اس کا نتیجہ کیا ہو گا ؟

ایک زمانے میں سعودی عرب اور عراق کے روابط میں کشمکش پیدا ہو گئی تھی اور جب اس کے اسباب ختم ہو گئے تو سعودی عرب نے بغداد میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا اور وہاں اپنا سفیر تعینات کر دیا ۔ لیکن تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانے  اور مشہد میں اس کی کونسلگری پر حملے نے  سعودی عرب کو مجبور کیا کہ اس اقدام کے ذریعے ایران کے لوگوں کے غصے کو ٹھنڈا کرے اور احتمالا جو نقصان ہونے والا ہے اس کے امکانات کم کرے ۔

فرض کیجیے کہ جو بھیڑ سعودی عرب کے سفارت خانے پر جمع ہوئی تھی اور اس نے اس میں آگ لگا دی تھی  اور سیکیوریٹی فورسز نے انہیں روکا بھی نہیں تھا فرض کیجیے کہ اگر وہ کسی کارکن یا کار کنوں کو پکڑ لیتے ، جیسا کہ پہلے ایسا ہو چکا ہے تو کیا ہو سکتا تھا ؟ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایران نے دو بڑی غلطیاں کی ہیں پہلے سععودی عرب کے امور میں کھلی مداخلت اور اس ملک کے عدالتی نظام پر تنقید ، دوسرے بلوا کرنے والوں  کوسفارت اور کونسلگری پر حملہ کرنے کی چھوٹ دینا ،عربی میں ایک مثل ہے جس کا مطلب ہے کہ شروع کرنے والا سب سے زیادہ ظالم ہوتا ہے ( البادی اظلم )

۔ کیا سعودی عرب اور تہران کے درمیان روابط کی پھر سے بحالی علاقے کے لوگوں کے فائدے میں ہو گی ؟ روابط کے منقطع ہونے سے کن لوگوں کو فائدہ ہو گا ؟

اس میں شک نہیں کہ روابط کی بحالی دو ملکوں ،ان کے لوگوں اور علاقے کے ملکوں کے حق میں مفید ہو گی ؛ لیکن ممکن ہے کہ آپ کسی چیز کو پسند نہ کرتے ہو اور وہ آپ کے لیے اچھی ہو ، اور شاید نقصان میں فائدہ ہو ، اسی بنیاد پر  ایران کو چاہیے کہ سعودی عرب کے لیے یہ ثابت کر دے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پر امن اور سالم تعلقات ہیں تا کہ ان کے نئے سرے سے بحالی کا راستہ ہموار کیا جائے ۔ یہ چیز کہ روابط افراد اور سیاسی افراد کی واپسی کی حد تک بحال کیے جائیں اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہے ۔

ایران اور سعودی عرب عملی ،سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی مسائل میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ،اس ملک کے دور اندیشوں کو چاہیے کہ اس موضوع پر دھیان دیں اور اس کی بنیاد پر اقدام کریں ۔

ایران کچھ دہائیوں سے پابندیوں کے حصار میں تھا ،اب اس بات سے قطع نظر کہ یہ مسئلہ ایک واقعیت ہے  یا صرف وہم ہے ،اور ان مشکلات اور فداکاریوں سے دور رہتے ہوئے کہ سعودی عرب  کو خلیج فارس کے ملکوں میں داخل ہونے کا ایک قانونی دروازہ مانا جائے  کہ دنیائے عرب اور جہان جن سے روبرو ہو سکتی ہے ایران کے لیے ہمسایوں اور خاص کر سعودی عرب کے ساتھ اچھے روابط کی ضرورت ہے ۔

روابط کی تعمیر نو کے لیے شجاعت اور سیاسی دانائی کی ضرورت ہے لیکن تباہی مچانے کے لیے صرف سادہ لوحی اور سیاسی حماقت کافی ہے ۔

یہ کہ کن لوگوں کو تہران اور ریاض کے روابط منقطع ہونے سے فائدہ ہے تو میں بتا دوں کہ ایسے لوگ  بہت ہیں ،کہ جن میں سے بہت ساروں کو ہم پہچانتے ہیں اور کچھ کو نہیں پہچانتے جب کہ خدا ان کے وجود سے آگاہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲