اہلبیت نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے سینئر حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے''داعش'' کی طرف سے کشمیر کی آزادی سے متعلق دئے گئے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں داعش کے پہنچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ''داعش'' کے دعویٰ پر (کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ جلد کشمیر کی آزادی کے لئے اس خطے میں قیام کرینگے) سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اس تنظیم کی کوئی اعتباریت اور صحیح سمت میں پلاننگ ہوتی تومشرقِ وسطیٰ میں موجود ہوتے ہوئے اس کی پہلی ترجیح قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی آزادی ہوتی اور پچھلی 6دہائیوں سے دبائے اور کچلے جا رہے فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لیے وہاں پہنچ جاتے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ پچھلی تقریباً 7دہائیوں سے حل طلب ہے اور بھارت جبری طور اس خطے پر قابض ہے، اس کے بجائے ''داعش'' نام کی تنظیم کی عمر دو تین سال سے زائد نہیں ہے اور اس عرصے کے دوران میں ''داعش'' کے وجود سے مسلمانوں کا کوئی مسئلہ حل ہونے کے بجائے پوری مسلم دنیا خانہ جنگی میں مصروف ہوگئی ہے اور ایک اللہ اور ایک رسول ۖ کو ماننے والے لوگ ایک دوسرے کی گردنیں اُڑارہے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ بھارت کشمیری قوم کی تحریکِ آزادی کو دہشت گردی سے جوڑنے کی سرتوڑ کوششیں بروئے کار لارہا ہے اور ایسے موقعے پر ''داعش'' کا کشمیر کے حالات پر تبصرہ بڑا معنی خیز ہے اور اس کے پسِ پردہ عوامل بہت زیادہ خطرناک معلوم ہورہے ہیں ۔ انہوں نے داعش یا آئی ایس آئی ایس(ISIS)کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے تبصرے کہ ''میں اس تنظیم کو ایران جیسے ملک پر ترجیح دیتا ہوں''، پر اپناردّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین سے متعلق ''داعش'' کا موقف اس تنظیم کی حقیقت اور ہئیت جاننے کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ اس تنظیم کے پسِ پردہ عوامل، محرکات اور مقاصد پر کافی روشنی ڈالتا ہے، صرف یہ نہیں کہ داعش فلسطینیوں کی جدوجہد کو جہاد کے زمرے میں شمار نہیں کرتی، بلکہ جب اسرائیل غزہ اور دوسرے مقامات پر بم برسا کر معصوم فلسطینی بچوں کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کررہا تھا، تو داعش کے جنگجوؤں(جو اسرائیل کی سرحد پر موجود ہیں) نے ایک گولی بھی اسرائیل کی طرف نہیں چلائی اور نہ ہی اس بمباری پر کوئی تبصرہ کیا۔ گیلانی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ خلافت اسلایہ کا قیام دنیا کے ہرمسلمان کا خواب ہے، البتہ داعش کے وجود اور اس کی کارکردگی پر بہت سارے سوالات ہیں، جن کا کوئی معقول جواب دستیاب نہیں ہے، دنیا میں امن اور عدل کا قیام اسلام کا بنیادی مقصد ہے اور انسانی زندگی کو جو احترام اور تحفظ اسلام نے فراہم کیا ہے، اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ شیعہ سُنی اختلاف کو ہواا دینے سے خلافت کا قیام عمل میں آنے سے رہا، البتہ یہ امریکہ، اسرائیل اور دوسری سامراجی قوتوں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ضرور مددگار ثابت ہورہا ہے، مسلمان ایک دوسرے کی گردنیں خود کاٹ رہے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل ایک طرف ہوکر تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
ساجد رسول // سرینگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲