19 جنوری 2016 - 05:53
کیا ظہورسے قبل خطے میں ایک ہولناک زلزلہ آئے گا؟

مغرب کا ایک اقدام آخرالزمان کے بارے میں لوگوں کے درمیان خوف وہراس پیدا کرنا ہے۔ جبکہ ہماری روایات میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے،خطے میں زلزلے کا وقوع ایک غیرحتمی علامت ہے اورطے نہیں ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورسےپہلے کوئی ہولناک زلزلہ آئے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ہماری روایات میں ظہورسے قبل بڑے بڑے زلزلوں کے آنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن یہ سب غیرحتمی علامات ہیں۔ لہذا ہماری روایات میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ جو ظہورسے پہلے کسی خاص زلزلے کی نشاندہی کرے۔

حجة الاسلام جواد جعفری نے اس سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ظہورکی علامات کو حتمی اور غیرحتمی میں تقسیم کیا گیا ہے اوران میں سے فقط پانچ علامات کو حتمی علامات قراردیا گیا ہے۔ لہذا اس وقت ہم جن علامات کے بارے میں بحث کرسکتے ہیں وہ حتمی علامات ہیں،چونکہ کہا گیا ہے کہ یہ حتما واقع ہوں گی لیکن دیگرتمام علامات،مشروط ہیں۔
غیرحتمی علامات شاید واقع ہوں یا بعض دیگرواقعات کی وجہ سے شاید واقع نہ ہوں، اہل سنت اور شیعہ کتب میں کچھ روایات موجود ہیں کہ جن میں آیا ہےکہ ظہورکی ایک علامت،زلزلوں کا وقوع ہے۔ اہل سنت اوریہاں تک دیگرادیان مثل انجیل لوقا میں بھی آیا ہے کہ آخرالزمان میں زلزلے آئیں گے اوراس کے بعد منجی عالم بشریت کا ظہورہوگا۔
پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں امام مہدی علیہ السلام کی بشارت دیتا ہوں کہ جو میری امت میں مبعوث ہوں گے۔ جب لوگوں کے درمیان اختلاف ہوگا اور زلزلے آئیں گے۔ ایک اورروایت میں ہے کہ امام مہدی علیہ السلام آخرالزمان میں ظہورکریں گے کہ جب زمانے کے حالات بہت سخت ہوں گےاورشدید زلزلے آئیں گے۔
امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام اس وقت قیام کریں گے کہ جب لوگوں کے درمیان بہت زیادہ خوف وہراس پھیل جائے گا اورزلزلے آئیں گے اوربعض روایات میں آخرالزمان کے زلزلوں کو بہت عظیم زلزلوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں ان جگہوں کا بھی ذکرکیا گیا ہےکہ جہاں پرزلزلے آئیں گے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ عراق میں زلزلے آئیں گے،ایک اورروایت میں ہے کہ ایک ایسا زلزلہ آئے گا کہ جس کے نتیجے میں بغداد شہرکا بہت بڑا حصہ زمیں بھی دھنس جائے گا۔ بعض روایات میں ہے کہ مصر کے تین علاقے زمین میں دھنس جائیں گے اورچھ زلزلے آئیں گے اسی طرح کچھ اورروایات میں کئی اورجگہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
بنابریں ہماری روایات میں ظہورسے قبل جن زلزلوں کے وقوع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،یہ سب غیر حتمی علامات ہیں۔ لیکن ایک ہولناک زلزلہ ہو کہ جسے ہماری روایات میں ایک قوی اورحتمی علامت کے طورپرذکرکیا گیا ہو،ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔
مغرب والوں کی کوشش ہے کہ وہ لوگوں کو آخرالزمان سے ڈرائیں اورلوگوں کو امید دلانے کی بجائے ان کے ذہن میں آخرالزمان کا اس طرح کا تصورپیش کردیں کہ گویا آخرالزمان میں دنیا تباہ ہوجائے گی اوربلائیں نازل ہوں گے۔ جب کہ ہماری روایات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169