1 جنوری 2016 - 15:25
ولایت فقیہ صرف شیعوں کی ولایت نہیں بلکہ اسلامی دستور ہے: آیت اللہ تسخیری

تہران میں دائر عالم اسلام میں جملہ مسالک اسلامی کے درمیان قربت و رواداری کی ثقافت کو فروغ دینے والے عالمی ادارے مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کی شورائے عالی کے سربراہ نے بتایا : شیعہ اور سنی باصراحت معتقد ہیں کہ حکام کو فقیہ ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ ولایت فقیہ صرف شیعوں کی ولایت نہیں ہے بلکہ پورے طور پر ایک اسلامی دستور ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  تہران میں دائر عالم اسلام میں جملہ مسالک اسلامی کے درمیان قربت و رواداری کی ثقافت کو فروغ دینے والے عالمی ادارے مجمع جہانی  تقریب مذاہب اسلامی کی شورائے عالی کے سربراہ آیت اللہ تسخیری نے حال ہی میں منعقدہ انٹرنیشنل وحدت کانفرنس میں علمائے مقاومت کی عالمی اتحادیہ کے کمیشن میں خطاب کے دوران بتایا : جب دولت اسلامی عراق و شامات(داعش) نے سرگرم افراد کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیابی حاصل کی ہے تو یہ سوال ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ عالم اسلام میں علماء نے کیا کیا ہے کہ اس قدر زہریلے افکار ان معاشروں کے اندر پروان چڑھ چکے ہیں ۔

آپ نے مزید کہا : یہ جوان اسلامی عقاید کے حامل ہیں لیکن داعش نے اس عظیم جمعیت کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ؛سوال یہ ہے کہ آیا خدا نے جو مقام ہمارے لیے مقرر کیا ہے ہم اس تک پہنچے ہیں یا نہیں ؟ اس لیے کہ آج ایسی کوئی چیز نہیں دکھائی دے رہی ہے کہ جو اسلام کے حقیقی علماء کا مطلوب ہو ۔

مجمع  جہانی تقریب  مذاہب اسلامی کی شورائے عالی کے سربراہ نے کہا ؛ آج بہت اچھا موقعہ ہے کہ جو کوششیں ہونا چاہیے تھیں ان کے بارے میں نئے سرے سے تحقیق کی جائے ہمیں ایک عمیق اور دقیق سلسلے کو اپنانا پڑے گا تا کہ اس طرح کے حالات پیدا نہ ہوں ۔

آپ نے اظہار خیال کیا : اس دور میں کہ جب معصومین موجود نہیں ہیں ہمیں علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے اسلام نے بھی فقہاء کو بہت بلند مقام دیا ہے ،اور ان کا اصلی مقام حکومت کا مقام ہے ہر حکمران کو فقیہ بھی ہونا چاہیے اور وہ  اسلامی اور دینی احکام پر عبور بھی رکھتا ہو ۔

آیت اللہ تسخیری نے یاد دلایا ؛ شیعہ اور سنی  باصراحت معتقد ہیں کہ حکام کو فقیہ ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ ولایت فقیہ صرف شیعوں کی ولایت نہیں ہے بلکہ پورے طور پر ایک اسلامی دستور ہے ۔

آپ نے مزید فرمایا ؛ دوسری طرف ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک فقیہ تمام فقہاء کے درمیان میں سے انتخاب ہوتا ہےتو اس فقیہ کو عالم ہونا چاہیے اور یہ مسئلہ قرآن اور روایات میں واضح طور پر بیان ہوا ہے ۔جب پیغمبر معاشرے کے درمیان سے چلے جائیں تو علماء کو معاشرے کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینی چاہیے اور کتاب و سنت کی بنیاد پر حکومت کرنی چاہیے ۔

مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کی شورائے عالی کے سربراہ نے کہا ؛ اس کے بعد کے مرحلے میں فقہاء امتوں کی ہدایت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں اس کے بعد عدالتی فیصلے کرنے کا اختیا ر بھی علماء کو حاصل ہے اور اس کے بعد مرجعیت ہے کہ یہ مقام بھی علماء کے پاس ہونا چاہیے ۔

آپ نے اظہار خیال فرمایا ؛ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ولایت فقیہ آیہ اولوالامر سے مستخرج ہوتی ہے یہ درست ہے جو شیعہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ص کے بعد ہمیں اہل بیت کی طرف رجوع کرنا چاہیے لیکن جس دور میں اہل بیت علیھم السلام معاشرے میں اپنے عینی وجود کے ساتھ موجود نہ ہوں تو یہ اطاعت علماء تک پہنچتی ہے اور ان کی اطاعت کرنا چاہیے ۔ ۔

آیت اللہ تسخیری نے یاد دلایا : بہت ساری روایات علماء کے اعتبار اور مرتبے کے بارے میں پائی جاتی ہیں کہ جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔خود قرآن اور اسلام نے یہ رتبہ علماء کو دیا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی علماء کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔

آپ نے مزید فرمایا؛ بد قسمتی سے اس گمراہی کی وجہ سے جو اسلامی ملکوں کے جوانوں کے اندر پیدا ہوئی ہے اور اس طرح کی تکفیری فکر ان کے اندر راسخ ہوچکی ہے ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ اس کی ایک وجہ ہماری تبلیغات کا ضعیف ہونا رہی ہے ۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲