اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ ایک سیاسی تجزیہ نگار’’کیون بیرٹ‘‘ نے پریس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹریو میں عراق میں داعش کے خلاف امریکی فضائی حملے جس میں عراقی فوج کےکئی اہلکار ہلاک ہوئے کہاہےکہ عراق وشام میں بدنام زمانہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف امریکہ اوراسکے اتحادیوں کی جنگ ایک ڈھونگ اورڈرامےکےسواکچھ بھی نہیں ہے ۔
انہوں نےکہاکہ امریکہ جو دنیا میں سب سے زیادہ طاقتورملک ہونے کا دعویٰ کر تا آرہاہے ابھی تک دہشتگردگرہوں کے ساتھ نمٹنے میں پوری طرح ناکام ہوچکا ہے ۔
انہوں نے عراقی حکومت کی طرف سے امریکہ کے کسی بھی مددسے انکار کرنے کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ عراقی حکومت اس بات سےبخوبی واقف ہےکہ امریکہ اس تکفیری گروہ کی نابودی کے بجائے اسے مزید پروان چڑھانے میں مدد فراہم کررہاہے ۔
انہوں نے بدنام زمانہ تکفیری دہشتگردگروہ داعش کے خلاف امریکہ کے نام نہاد جنگ کو ایک ڈرامہ قراردیتے ہوئے کہاکہ حقیقت میں امریکہ نے ہی اس خونخوار گروہ کو مزید مستحکم ہونے میں مدد کی ہے کیونکہ دنیا کے پاس یہ شواہد موجودہیں کہ اس وحشی گروہ کو تخلیق کرنے میں امریکہ کے ہی ہاتھ کارفرما رہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ شام وعراق میں داعش کےزیر قبضہ علاقوں میں امریکہ ایک سلفی حکومت کی تشکیل کا خواہاں ہے اوراسی لئے امریکہ اوراسکے اتحادیوں کی طرف سے اس دہشتگردگروہ کے خلاف تقریباً18 مہینوں سے چلتی آرہی فضائی مہم ناکام ثابت ہورہی ہے کیونکہ امریکہ اس خونخوار گروہ کو نابود کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اورامریکہ اس دہشتگرد گروہ پر بم برسانے کے بجائے اسے ہتھیاروں اورایشائے خوردنی سے لیس کر رہا ہے اورعراقی افواج جوکہ حقیقی معنوں میں داعش کے خلا ف نبرادآزما ہے امریکہ ان ہی کو نشانہ بنانے پر تلاہواہے ۔
انہوں نے کہاکہ عراقی حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ داعش کے خلاف لڑنے کیلئے روس سے فوجی تعاون کی دلچسپی رکھتی ہے بالکل بجااورعاقلانہ فیصلہ ہے کیونکہ خطے میں صرف روس ہی ایسا ملک ہے جواس تکفیری دہشتگردگروہ کی نابودی میں سنجیدہ ہے اوراگرروسی حکام عراقی حکومت کی درخواست پر نظرثانی کرتی ہے تویہ عراقی حکومت اورعوام کی خوش قسمتی ہوگی ۔
موصوف تجزیہ نگار نےکہاکہ امریکی حکومت جو شام وعراق میں دونوں ممالک کی حکومتوں اورعوامی اجازت کے بغیر داعش کے خلاف نام نہاد جنگ میں ملوث ہے پر دباؤڈالنے کی ضرورت ہے اوراگرواقعی امریکی عوام ایک جمہوری ملک میں رہتی تو انہیں اپنی حکومت پر داعش جیسے خونخوار گروہ کی مالی واسلحی امدادروکنے کیلئے دباؤڈالنا چاہئے لیکن بدقسمتی کی وجہ سے پوری امریکی عوام کو آمرانہ حکومت کے کٹھ پتلی ذرائع ابلاغ کی طرف سے مکمل طورپر بے خبری اورگھپت اندھیرے میں رکھا گیاہے ۔
انہوں نے امریکی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ امریکی حکومت میں کچھ ایسے افراد موجود ہیں جو امریکی نظام حکومت سے پوری طرح اکتاگئے ہیں کیونکہ امریکی حکام میں وہی لوگ اونچے اونچے عہدوں پر فائز ہیں جنہوں نے 11/9 حملے کو انجام دیکر داعش کے خلاف جعلی جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔
انہوں نے داعش دہشتگردگروہ کے خلاف امریکی جنگ کو بالکل جھوٹ اورجعلی قراردیتے ہوئے کہاکہ عالمی طاقتوں میں صرف روس ہی ایساملک ہے جو حقیقی طورپر اس دہشتگرد گروہ کے خلاف نبردآزما ہے ۔
کیون بیرٹ نے مزید امریکی حکام کو مشورہ دیاہےکہ وہ خطے میں اپنی مداخلت سے گریز کرکے علاقائی ممالک کو مشرق وسطیٰ کے خطے کو تباہی سے بچانے کیلئے میدان میں کودنے کی اجازت دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲