اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: سینیٹر (ر) محمد اکرم ذکی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بہت بڑا کردار ہیں۔ ملکی تاریخ میں اب تک دو شخصیات کو فارن سیکرٹری جنرل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے, جن میں ایک اکرم ذکی صاحب ہیں۔ انہوں نے چین، امریکہ، نائیجریا اور فلپائن کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان سے تربیت پانے والے وزارت خارجہ کے کئی افسران نے قابلیت کے بل بوتے پر اعلٰی ترین عہدوں پر رسائی حاصل کی۔ سابق سینیٹر اکرم ذکی 1991ء سے 1993ء تک وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے, جو کہ وزیر مملکت کے برابر شمار کیا گیا۔ 1997ء سے 1999ء تک سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اور نیشنل ایجوکیشن کمیشن کے وائس چیئرمین رہے ہیں۔ سابق سینیٹر اکرم ذکی انجمن فروغ تعلیم کے بانی صدر بھی ہیں۔ ان کو پاکستان یورپ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے بانی صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے متعدد بین الاقوامی تنظیموں، کانفرنسوں اور مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کی، جن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، اقوام متحدہ کا ہیومن رائٹس کمیشن، اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC)، ایشین بنک اور اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) شامل ہیں۔ آج کل آپ کئی تحقیقی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی اور سلامتی کے مباحث میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اہم فیصلوں میں ان کی رائے کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے اپنے قارئین کے لئے اکرم ذکی صاحب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پائی جانیوالی کشیدگی کے موضوع پہ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو کہ پیش خدمت ہے۔
اسلام ٹائمز: مشرق وسطٰی کی موجودہ صورتحال کے بنیادی اسباب کیا ہیں۔؟
اکرم ذکی: دیکھیں اسباب تو انتہائی واضح اور آن دی ریکارڈ ہیں۔ 2006ء میں کونڈو لیزا رائس نے اسرائیل میں کھڑے ہوکر مشرق وسطٰی بشمول پاکستان، افغانستان کی تقسیم کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے بعد لیفٹیننٹ کرنل رالف پیٹرز نے ایک نقشہ بھی پیش کیا تھا۔ جس میں عراق، شام سمیت پاکستان و دیگر ممالک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسی نقشے کو مختلف پالیسی اداروں اور افسران کے تربیتی اداروں میں باقاعدہ پڑھایا گیا۔ اسی منصوبے کا تسلسل مشرق وسطٰی کی موجودہ صورت حال کا سبب ہے۔ منصوبے پر آج بھی عملدرآمد جاری ہے۔
اسلام ٹائمز: امریکہ یا مغرب کا اسلام کے نام پر جاری شدت پسندی سے تعلق کتنا پرانا ہے؟
اکرم ذکی: ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگوں کی ایک پوری تاریخ ہے۔ 1096ء میں پوپ نے صلیبی جنگوں کا اعلان کیا۔ جس کے بعد یہ ٹکراؤ جاری رہا۔ 1453ء اور 1492ء اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ 1453ء وہ تاریخ ہے، جب ترک یورپ میں داخل ہوکر استنبول پہنچ چکے تھے، جبکہ 1492ء سپین میں غرناطہ ختم ہوا۔ یعنی ایک طرف مسلمان کو فتح دوسری جانب شکست ہوئی۔ اگلی تین صدی تک یہ لڑائیاں جاری رہی۔ کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد سمندری طاقت پھیلی، تو اس وقت مسلمانوں کی تین بڑی طاقتیں وجود رکھتی تھیں۔ مغل، صفوی اور ترکش۔ انیسویں صدی تک ماسوائے ترکی کے باقی دونوں ختم ہوگئی، جبکہ ترکی سلطنت بیسیویں صدی تک قائم رہی۔ جب یہ مسلمان طاقتیں ختم ہوگئیں، تو مسلمانوں کے حوالے سے تین چہرے ابھر کر سامنے آئے۔ ایک شدت پسند یا جہادی اسلام، جس نے ترقی و مغرب کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ دوسرا مغرب زدہ اسلام، جنہوں نے اسلام کو چھوڑ کر مکمل طور پر مغرب کو اپنایا۔ تیسرا چہرہ وہ تھا، جنہوں نے اسلام کو چھوڑے بغیر ترقی اور نئے علوم اور سیاسی تحریکوں پر توجہ دی یعنی پولیٹیکل اسلام۔ شدت پسندوں کو اقتدار ملا، تو سعودی عرب بن گیا۔ مغرب زدہ کو اقتدار ملا تو شاہ آف ایران اور مصطفٰی کمال ملے۔ جبکہ تیسرا چہرہ جمال الدین افغانی، سر سید احمد خان یا اخوان المسلمون کی صورت میں ملتا ہے۔
مغرب یا امریکہ نے شدت پسند اور مغرب زدہ یعنی شاہ آف ایران اور سعودی عرب دونوں کو اپنا حلیف بنایا، مگر پولیٹیکل اسلام کو یکسر مسترد کر دیا۔ مصدق کو ہٹوایا۔ لیاقت علی کو مروایا۔ سوئیکارنو کو ہٹانے میں تھوڑی دیر لگی۔ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی۔ جب انقلاب اسلامی ایران کامیابی سے ہمکنار ہوگیا۔ یعنی پولیٹیکل اسلامی تحریک کامیاب ہوئی، اور مغرب کے بڑے حلیف شاہ آف ایران کو ملک چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد امریکہ میں جتنا بھی لٹریچر لکھا گیا۔ اس میں اسلام کو اپنا دشمن ڈکلیئر کیا گیا۔ ایک جانب مغرب نے اسلام کو اپنا دشمن قرار دیا، مگر دوسری جانب نیوکانز نے شدت پسند اسلام کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ 43 ملکوں سے ساڑھے پینتیس ہزار بندے لاکر افغانستان میں داخل ہوئے۔ اب یہ تو سب کو پتہ ہے کہ ان کو کون لایا۔ ان کو اسلحہ کس نے دیا۔ وہ ہم بھی مانتے ہیں اور ہم بھی شامل تھے۔ اس میں امریکہ بھی شامل تھا۔ سعودی عرب بھی، پاکستان بھی شامل تھا۔ اسرائیل بھی شامل تھا۔ بعد میں اسی کا نام القاعدہ ہوگیا۔ اسی القاعدہ کی ایک برانچ عراق میں بنائی گئی۔ جسے القاعدہ عراق کہا گیا اور اس نے اسامہ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کیا۔ روس کے ختم ہونے کے بعد ان لوگوں کو بھی دشمن قرار دیکر ان کے خلاف نام نہاد مہم جوئی شروع ہوئی۔ 1993ء میں پچاس نیوکان نے دنیا کا جو نیا نقشہ ترتیب دیا۔ ان میں سے گیارہ نیوکان بش کی کیبنٹ میں شامل تھے۔ بعدازاں القاعدہ عراق کے دو حصے ہوئے۔ جس سے میں ایک جھبۃ النصرہ اور دوسری داعش بنی۔ جھبۃ النصرہ کو امریکہ اور اس کے ہم نواؤں نے مدد فراہم کی، جبکہ داعش کو غیر اعلانیہ امداد و مدد فراہم کی۔ نتیجے میں موجودہ صورت حال ہمارے سامنے ہے۔
اسلام ٹائمز: اسکا مطلب ہے کہ امریکہ داعش کیخلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔؟
اکرم ذکی: اوباما صاحب نے ایک بہت لمبی چوڑی تقریر کی تھی۔ میں پوری تقریر کا تو نہیں مگر چار پانچ باتوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم داعش کو ختم کر دیں گے۔ دہشت گردوں کو کسی بھی ملک کے اندر جا کر ماریں گے۔ تیسری بات انہوں نے کہی کہ ہم عراق اور شام میں سپیشل فورسز کے دستے بھیجیں گے۔ چوتھی بات انہوں نے کہی کہ ہم داعش کو ختم کرنے کیلئے 65 ملکوں کا ایک عالمی اتحاد قائم کر رہے ہیں۔ ان کی اس تقریر سے میرے اپنے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ چلیں یہ تو ٹھیک ہے کہ داعش کو ختم کریں گے۔ بہت اچھی بات ہے، ہم بھی یہی چاہتے ہیں، مگر یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردوں کو کسی بھی ملک کے اندر جا کر ماریں گے۔ کیا موجودہ عالمی قوانین کے تحت یہ درست ہوگا کہ کسی ملک کی حکومت سے مشاورت یا اجازت کے بغیر اس کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی جائے۔ اس کے علاوہ کیا شام و عراق جہاں انہوں نے سپیشل ٹروپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے، کیا وہاں کی حکومتوں نے انہیں دعوت دی ہے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ داعش کتنی بڑی قوت ہے کہ اسے ختم کرنے کیلئے 65 ملکوں کا اتحاد تشکیل دیا جا رہا ہے۔ دنیا کے ایک چھوٹے سے علاقے میں مخصوص مقامات پر وہ موجود ہیں، تو ان کے خاتمے کیلئے 65 ملکوں کا اتحاد یقینی طور پر اچھنبھے کی بات ہے اور داعش کو کیا کوئی آسمانی قوت حاصل ہے۔ آخر ان کے ٹینکس کہاں سے آرہے ہیں۔ ان کے میزائلز اور اسلحہ کہاں سے آرہا ہے۔ وہ روسی جہازوں کو کونسے ہتھیاروں سے نشانہ بناتے ہیں۔ شام سے عراق تک صحرائی علاقوں میں ان کے ٹرکوں کے کاروان کیسے پرسکون سفر کرتے ہیں۔ سخت پابندیوں کے باوجود وہ تجارت، یا تیل کس کو بیچ رہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا انہی میں سے تو کوئی داعش کے دوست و ہمدرد نہیں ہیں۔
اسلام ٹائمز: حال ہی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ کیا یہ دورہ نتیجہ خیز یا دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی میں معاون و مدد گار ثابت ہوگا۔؟
اکرم ذکی: بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کو میں کوئی باقاعدہ دورہ نہیں سمجھتا۔ وہ افغانستان کے موضوع پر ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کیلئے آئیں تھیں۔ ان کا مقصد افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ اور ان کا حصول تھا، ناکہ اعتماد کی بحالی یا مذاکرات۔ اس سے قبل اسی طرح بھارتی سیکرٹری خارجہ بھی سارک ممالک کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان آگئے تھے اور یہی سے پھر وہ افغانستان بھی گئے تھے۔ لہذا میں انہیں باقاعدہ خارجی دورے نہیں سمجھتا ہوں۔
اسلام ٹائمز: بھارت نے پاکستان سے افغانستان تک زمینی راہداری مانگی ہے، آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے۔؟
اکرم ذکی: جی، ایک ایسا ملک پاکستان سے راہداری کا مطالبہ کر رہا ہے، جو عالمی سطح پر پاک چین اقتصادری راہداری کی بھرپور مخالفت کرچکا ہے، میرے خیال میں مسئلہ کشمیر کے حل اور پاک چین اقتصادی راہداری کے فنکشنل ہونے تک بھارتی مطالبہ نہیں ماننا چاہئے، اور بھارت نے یہ مطالبہ بھی اس وقت کیا ہے، جب چند روز بعد ہی آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کی پہلی برسی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاک افغان سرحد پار سے چوکیوں پر حملہ آور ہونے والوں کی ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں۔ بلوچستان اور فاٹا میں کس کی اندرونی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں۔ شہر قائد سے لیکر پھولوں کے شہر تک اور کوئٹہ سے لیکر جی ایچ کیو تک کون پاکستان کی سلامتی کے ضامن اداروں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور مزید منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ گھر کے آنگن سے انسان مخلص دوستوں و ہمسائیوں کو گزرنے کی اجازت تو دے سکتا ہے، مگر سلامتی، خود مختاری اور وجود کے دشمنوں سے گھر کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن رکھنے والوں اور پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف واویلا کرنے والوں کو آنگن تک آنے کی اجازت دینا، حب الوطنی پر بھی کئی سوالات اٹھا دیتا ہے۔
اسلام ٹائمز: آپ نے اپنے آرٹیکل میں کمپوزٹ ڈائیلاگ کا درجہ کمپری ہنسیو ڈائیلاگ میں تبدیل کرنے کا نکتہ خاص طور پر اٹھایا ہے، دونوں میں کیا فرق ہے۔؟
اکرم ذکی: جی 1997ء سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو کمپوزٹ ڈائیلاگ کا درجہ حاصل تھا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جتنے بھی متنازعہ امور ہیں، وہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور ان تمام میں ٹھوڑی یا بہت عملی پیشرفت ہونا، مذاکرات کو بحال رکھنے کیلئے بنیادی شرط تھی۔ کمپوزٹ ڈائیلاگ کے تحت اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے فروغ یا دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کیلئے اقدامات کے فروغ کی کوشش ہوتی تھی، تو ساتھ ہی مسئلہ کشمیر پر بھی پیشرفت ضروری تھی۔ اب یہ درجہ تبدیل کرکے کمپری ہنسیو کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد صرف ان امور میں پیشرفت ہوسکتی ہے، جس پر دونوں کا اتفاق ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169