14 دسمبر 2015 - 17:31
ترکی کے صدر امریکی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں: عراق

عراق کی عوامی رضاکار فورس کی مشاورتی کمیٹی کے ایک رکن نے عراق میں امریکی منصوبے پر عمل درآمد کے لئے ترکی کی سازش سے پردہ اٹھایا کہا ہے کہ کہ ترک حکومت عراق کو تین حصوں یعنی شیعہ، سنی اور کرد میں تقسیم کرنے کے امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے منصوبے پر عمل درآمد کے درپے ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی رضاکار فورس کی مشاورتی کمیٹی کے رکن کریم النوری نے السومریہ نیوز ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک حکومت عراق کو تین حصوں یعنی شیعہ، سنی اور کرد میں تقسیم کرنے کے امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے منصوبے پر عمل درآمد کے درپے ہے۔

کریم النوری نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کو ایک مغرور شخص قرار دیا اور انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام دہشت گرد گروہ داعش اور ترکی کے غاصبانہ قبضے میں کوئی فرق نہیں سمجھتے اور داعش کا راستہ ہموار کرنے والے ہر شخص کا مقابلہ کریں گے۔

ادھرعراق کی ایک اہم سیاسی شخصیت سعد المطلبی نے بھی کہا ہے کہ ترکی نے شمالی عراق کے شہر موصل کے نزدیک اپنے فوجی تعینات کرکے عراق اور شام میں سنیوں کے زیرکنٹرول ایک علاقہ قائم کرنے کی سازش رچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی عراق کے شمال میں اپنے فوجی بھیج کر اس علاقے میں امریکی سازش پر عمل درآمد کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

دوسری طرف ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے دعوی کیا ہے کہ عراق نے ایران اور روس کے اشارے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ترکی کی شکایت کی ہے۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوغان نے بغداد کی طرف سے سلامتی کونسل میں عراقی سرزمین پر ترک فوجیوں کی غیرقانونی موجودگی کی شکایت کے رد عمل میں کہا ہے کہ بغداد نے ایران اور روس کے اشارے پر سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔ اردوغان نے عراق میں ترک فوجیوں کی موجودگی جاری رہنے پر تاکید کی اور کہا کہ ان فوجیوں کی موجودگی عراق کی کرد پیش مرگہ ملیشیا کی تربیت کے تعلق سے ضروری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ میں عراق کے نمائندے محمد علی الحکیم نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ میں امریکی ایلچی اور سلامتی کونسل کی موجودہ صدر سامانتھا پاور کو ایک خط لکھ کر عراق میں اپنے فوجیوں کو تعینات کرنے کی وجہ سے ترکی کی شکایت کی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے گزشتہ چار دسمبر کو عراقی کرد پیش مرگہ ملیشیا کو تربیت دینے کے بہانے اپنے دسیوں فوجی عراق کے شمالی صوبے نینوا کے شہر موصل کے نزدیکی علاقے میں داخل کردیئے تھے۔ عراق نے ترک فوجیوں کی واپسی کے لئے ترکی کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی لیکن ترک حکومت نے اعلان کیا کہ اس کے فوجی عراق سے نہیں نکلیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲