اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روزنامہ نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون میں سعودی عرب کی ایران کے مقابلے کی پالیسی کا تجزیہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ ایران کی رقابت کے موضوع پر سعودیوں کی سب سے زیادہ ہٹ دھرمی ایسے خطروں سے اس کی غفلت کا باعث بنی ہے کہ جو اس کی حکومت کو بنیاد سے ہلا سکتے ہیں ۔
اس مضمون میں کہ جو اس روزنامہ کے کالم نگار کارول جیاکومو کے قلم سے ہے آیا ہے کہ :
سعودی عرب کی ایران سے دشمنی کے دلایل کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہے ۔خاندان آل سعود کے ارکان ،حکومتی عہدیداروں اور تحلیلگروں نے حال ہی میں اپنے بیانات میں اس بات سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کا صدر باراک اوباما ،شام کے صدر اور ایران کے اصلی اتحادی بشار اسد کو حکومت سے الگ کرنے کے لیے کچھ نہیں کر پایا ہے ۔
سعودی ڈیپلومیٹیک مطالعات کے ایک ادارے کے رکن اسد الشمان نے اس سلسلے میں کہا : اوباما کے لیے یہ ایک اخلاقی اور حساس ناکامی ہے ۔
علاقائی تنازعات کے حل و فصل میں ایران اپنے لیے بہترین مقام پیدا کرکے سعودی عرب کے لیے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ لیکن سعودی عرب کی اس پر حد سے زیادہ توجہ اس کے دیگر اہم موضوعات کی طرف بے توجہی کا سبب بنی ہے کہ جن میں سے کچھ اس کے لیے انتہائی حساس اور حیاتی ہیں ۔
دہشت گرد گروہ داعش کے دہشت گرد سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں ،گذشتہ ایک سال کے دوران اس گروہ کے افراد نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے پر ہوئے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ جو اس ملک میں شیعہ آبادی والا علاقہ ہے ،اس حملے میں زیادہ تر نقصان شیعوں کا ہوا اور یہی چیز فرقوں میں کھینچا تانی کا کاعث بن گئی۔
گذشتہ ماہ میں نےاس وقت شیھات کے علاقے دورہ کیا تھا کہ جب داعش کے آدمیوں نے ایک مسجد میں پروگرام کےدوران پانچ افراد کو شہید کر دیا تھا ۔اسی شہر میں چند روز پہلے مسلح افراد نے دو سعودی سیکیوریٹی اہلکاروں کو مار گرایا تھا ۔سعودی عرب کے بہت سارے شیعہ کہ جو سعودی عرب کی حکومت سے غیریت کے احساس میں مبتلا ہیں اس چیز کو لے کر پریشان ہیں ۔
ایک سعودی روزنامہ نگار اس سلسلے میں کہتا ہے ؛وہ یہ احساس کرتے ہیں کہ انہیں ان کےعقاید کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ سعودیہ کے وہابی جس اسلام کو مانتے ہیں اسی اسلام پر سعودی حکومت کی بنیاد پڑی ہے وہ شیعوں کے عقاید پر انگلی اٹھاتے ہیں اور شیعوں کے خلاف اس ملک میں زبر دست پروپیگنڈا ہوتا ہے ۔
سعودی حکومت نے اس طرح کے حملوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا ۔حملوں کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شیعوں نے مطالبہ کیا کہ نسل پرستی کے خلاف قانون بنایا جائے ۔اس کے باوجود مجلس شوری کہ جو بادشاہ کی طرف سےایک مشاورتی تنظیم کے طور پر بنائی گئی ہے اس نے اس سلسلے میں بحث تک کی اجازت نہیں دی ۔
جب دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بحث چھڑتی ہے تو واشنگٹن محمد بن نایف کو جو سعودی ولی عہد ہے بہت اہمیت دیتا ہے جب کہ سعودیہ کے بہت سارے باشندے غیر عادلانہ طور پر اس کے ذریعے گرفتار کیے گئے ہیں اور ظالمانہ طرز پر انہیں سزا دی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر علی محمد النصر کہ جو حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران گرفتاری کے وقت صرف۱۷ سال کا تھا اب موت کی سزا کا انتظار کر رہا ہے ۔
اجتماعی ناراضگی کی ایک اور علامت کے طور پر غیر سرکاری محافل میں ایک مشروط بادشاہی کی جانب حرکت کے بارے میں بحث چھڑ چکی ہے اور نئے سیاسی منشور کی تدوین کے لیے ایک تجویز بھی لکھی جا چکی ہے ۔ ۔ایک سعودی کارکن کا کہنا ہے ؛ جب تک شہریوں کو حکومت میں شریک نہیں کیا جاتا اس قت ان کے مطالبات کو پورے کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔اس نے تاکید کی ہے کہ مقصد اصلاح ہے نہ کہ انقلاب ،
دوسری طرف سعودی عرب کا جوان طبقہ وہابی اسلام پر مبنی قوانین میں اصلاح کا مطالبہ کر رہا ہے کہ جو عورتوں کے لیے شدید گھٹن کا باعث ہیں ۔لیکن ۷۹ سالہ ملک سلمان نے ہر طرح کی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں ۔
ان سب کے باوجود خاندان سعود ۵۶ سالہ ولی عہد محمد بن نایف اور ۳۰ سالہ جانشین ولی عہد کے درمیان جھگڑوں کا تصفیہ کرنے میں بھی ناکام رہا ہے کہ جن کے مابین طاقت کی جنگ چل رہی ہے ۔ایسے حالات میں ایک سعودی شہزادے نے دو مضمون نشر کر کے بہت سارے مسائل کو اجاگر کر دیا تھا ۔ ان میں سے ایک مضمون میں کہ جو روزنامہ گارڈین میں نشر ہوا تھا بادشاہ اور شہزادوں کو بر طرف کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
بہت سارے سعودی باشندے محمد بن نایف پر اعتماد نہیں رکھتے ۔وہ ابھی نا تجربہ کار ہے لیکن سعودی خارجی سیاست میں اپنے دعوے کے مطابق خاص کر یمن پر مسلط کی گئی جنگ میں کہ جس کے خاتمے کی کوئی ترکیب نظر نہیں آتی اس نے اہم رول ادا کیا ہے ۔بعض لوگ اس کے اقتصادی آزادی کے منصوبوں کو اچھی نظر سے دیکھ رہے ہیں ،لیکن بن سلمان نے اب تک تمام شہزادوں سے بڑھ کر حکومتی اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے کر سعودی خاندان میں زیادہ حساسیت پیدا کر دی ہے ۔
ان داخلی جنگوں کے چلتے ،سعودیہ کے دوسرے مسائل کی جانب بھی اشارہ کرنا چاہیے کہ جو اس کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں جیسے اجتماعی مسائل ،تیل کی قیمت میں گراوٹ ، اور یمن کی جنگ وغیرہ ،اس کے باوجود سعودی خاندان کے افراد مطمئن ہیں کہ اس طوفان سے نکل جائیں گے ۔اسی دوران ان تمام مسائل کے چلتے سعودیوں نے اپنی پوری توجہ ایران کا مقابلہ کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲