22 نومبر 2015 - 11:04
ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے مضبوط اور کمزور پہلوؤں کا جائزہ لیا

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اقوام متحدہ کی تشکیل کے ستّر سال مکمل ہونے کی مناسبت سے بلائی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس میں اس بین الاقوامی ادارے کے مضبوط پہلووں کے ساتھ اس کے کمزور پہلوؤں اور نقائص کو بھی ذکر کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ محمد جواد ظریف نے تہران میں بلائی جانے والی اس کانفرنس میں کہاکہ اقوام متحدہ کی تشکیل کی ستّرویں سالگرہ کے موقع پر ہم کو اس کی کارکردگی کا بھر پور جائزہ لیا جانا چاہئے۔ ترقی و پیشرفت، انسانی حقوق کی سطح بلند کرنے اور جنگوں کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی تعاون اقوام متحدہ کو وجود میں لائے جانے کا اصل مقصد ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اقوام متحدہ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس موضوع کی جانب بھی اشارہ کیا۔ محمد جواد ظریف نے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تشویشوں کے سلسلے میں سیاست بازی کو ایک بنیادی اور حقیقی نقص قرار دیا۔ اور اس سلسلے میں خاص طور پر انسانی حقوق اور دہشت گردی کے سلسلے میں اپنائے جانے والے دوہرے رویئے کی جانب اشارہ کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ دنوں کے دوران منظور کی جانے والی دو قرار دادیں بہت ہی زیادہ مضحکہ خیز ہیں۔ ان قراردادوں کے بارے میں انہوں نے بھی اظہار خیال کیا جن کے ہاں نہ تو کوئی آئین ہے اور نہ ہی انتخابات نام کی کوئی چیز۔
محمد جواد ظریف نے کہا کہ جن ممالک نے دہشت گرد گروہ داعش کو پروان چڑھایا ہے وہ اس گروہ کا مقابلہ کرنے والے ممالک پر تنقید کر رہے ہیں اور افسوس کہ ان کی بات کو قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے جہاں اقوام متحدہ کے دوہرے رویئے پر تنقید کی ہے وہیں اقوام متحدہ کی جانب سے کردار ادا کئے جانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟ کیا اس ڈھانچے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے فاتحین اور تسلط پسند طاقتوں نے بنایا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید موجودہ صورتحال میں نفی میں ہو۔ اس کے باوجود ایک اور حقیقت بھی موجود ہے اور وہ اقوام متحدہ کے اصولوں کے استحکام سے عبارت ہے اور عالمی برادری ان اصولوں کی بدستور حمایت اور ان پر تاکید کرتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ پر بڑی طاقتوں کا تسلط بھی اس کے منشور کے فراموش کئے جانے کا سبب نہیں بن سکا ہے۔ بنابریں اقوام متحدہ کے کردار کی تقویت کے لئےکوشش کی جانی چاہئے۔
افسوس کہ انسانی حقوق ، دہشت گردی اور جنگیں عالمی برادری کے کلیدی مسائل ہیں۔ اور اقوام متحدہ کا ادارہ ان کے سلسلے میں یا تو کچھ کر ہی نہیں رہا ہے یا اس نے دوہرا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس دوہرے رویئے پر تنقید کرتے ہوئےکہا کہ دوسروں کو بدامنی کا شکار کر کے اپنے لئے امن قائم نہیں کیا جاسکتا ہے اور دہشت گرد گروہ داعش سے مقابلے کو مشروط نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی اور بدامنی باہم جڑی ہوئی ہے اور اس کی کوئی سرحد نہیں ہے یورپ کو اپنی سیکورٹی پر بڑا ناز تھا لیکن اب وہ بھی دہشت گردی کی زد میں ہے ۔ بنابریں اس اصول کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ آپس میں جڑی ہوئی دنیا میں یا تو سب امن سے ہمکنار ہوں گے یا کوئی بھی اس سے ہمکنار نہیں ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج عالمی برادری اقوام متحدہ سے یہ توقع رکھتی ہے کہ اس کے ادارے خصوصا سلامتی کونسل کے حکام نئے بین الاقوامی حالات کو مد نظر رکھ کر اپنا کردار سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے دنیا کو استحکام سے ہمکنار کرنے کی خاطر خواہ کوشش کی ہے لیکن اس راستے میں اسے بے شمار رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان رکاوٹوں کا تعلق توسیع پسند طاقتوں کی کارکردگی اور اقوام متحدہ سے ان کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے ہے۔ بنابریں عالمی برادری کی جانب سے فرض شناسی اور کردار ادا کئے جانے کی صورت میں ہی اقوام متحدہ کے منشور کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ان اہداف کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کے زاویہ ہائے نگاہ میں تبدیلی کو ضروری قرار دیا ہے نہ کہ اس کے منشور میں تبدیلی کو۔