8 نومبر 2015 - 07:30
نریندر مودی کے دور ے کے بعد کشمیر میں طالب علم کی ہلاکت

مودی کے دورے کی وجہ سے پوری وادی میں حالات کشیدہ رہے اور علاقے کو فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کردیاگیا۔ حکام نے حریت کے ملین مارچ کو بھی ناکام بنادیا۔ اس دوران کئی جگہوں پر نوجوانوں کی پولیس کیساتھ جھڑپیںبھی ہوئیںجس کی وجہ سے سرینگر کے زینہ کوٹ علاقے میں پولیس اور سی آر پی ایف کی جانب سے طالب علم گوہر احمد ڈار کو ہلاک کیاگیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بتایاجاتاہے کہ نوجوان سیکورٹی فورسز پر پتھراﺅ کررہے تھے جس کے جواب میں ان پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے جن کی زدمیں آکر ایک طالب علم لقمہ اجل بن گیا۔ ہلاکت کے واقعہ کے بعد کشمیر میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور اتوار کو وادی میں عام ہڑتال کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حریت لیڈران سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک وغیرہ نے وادی میں ہمہ گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کے وزیرِ اعظم کی طرف سے کشمیریوں کے لئے ایک تاریخی تحفہ ہے جس کا ہم ہمیشہ سامنا کرتے آئے ہیں۔

اپنے بیان میں گیلانی نے کہا کہ بھارت کی قابض فورسز یہاں بے لگام ہوگئی ہیں اور وہ جب چاہیں کسی کو بھی ہلاک کرسکتی ہیں۔ انہوں نے اس قتل کےلئے ہند نواز سیاست دانوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اُس کلہاڑی کے دستوں کو رول ادا کرتے ہیں جس سے ہمارے نونہالوں کو کاٹا جاہا ہے۔ واضح رہے کہ مودی کی آمد اورمزاحتمی قیادت کے ملین مارچ کے پیش نظر زمین سے فضاءتک حفاظت کے بے مثال انتظامات اورلالچوک سمیت شہرکے بیشتر علاقوں میں کرفیو جیسی سخت بندشوںکے بیچ وادی بھر میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی تھم کر رہ گئی-

صرف اسٹیڈیم اور اسکے گرددنواح کے علاقوں کو ریاستی اور مرکزی فورسز کے قریب 4000 اہلکاروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔اس دوران کئی پولیس تھانوں میں کرفیو نافذ رکھاگیا اور حریت لیڈران کو یاتو قید یاپھر خانہ نظر بند رکھاگیا تاکہ ملین مارچ کوناکام بنایاجاسکے۔ اس مقصدسے سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق سمیت تمام حریت لیڈران کو خانہ نظر بند رکھاگیا۔

اس دوران پوری وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رکھی گئی جبکہ اندرون وادی ریل سروس مسلسل دوسرے روز بھی ٹھپ رہی۔ وہیں نریندرمودی نے اپنے خطاب میںجموں کشمیر کےلئے80ہزار کروڑ روپے کے مالی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت کے فلسفے کی آبیاری کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں یہ بات واضح کردی کہ کشمیر کے معاملے پرانہیں کسی کے مشورے یا تجزیے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کشمیر کو جنت بنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے نوجوانوں کےلئے روزگار کی فراہمی اور سیلاب زدگان کی بازآبادکاری کو اولین ترجیح قرار دیا اور سیاحت، صحت، تعلیم، زراعت، دستکاری، بجلی، پانی، سڑک، ریلوے اور دیگر جدید سہولیات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بھی فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔البتہ انہوںنے اپنی تقریر میںپاکستان اور حریت کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ ریلی کی خاص بات اس میں شرکت کےلئے غیر ریاستی شہریوں کو خصوصی پاس بھی فراہم کئے گئے تھے اور کئی لوگوں کو زبردستی اسٹیڈیم پہنچایا گیا۔

.......

/169