اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ حکومت ابھی تک سانحہ جیکب آباد کے متعلق تحقیقات نہیں کرسکی ہے اور نہ ہی سانحہ میں ملوث خفیہ ہاتھ ظاہر کیے گئے ہیں، درست معلومات اور ثبوت کی بنیاد پر ملوث عناصر کے خلاف آپریشن کیا جائے، دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ایک دو دہشت گردوں کو گرفتار یا مارنے کے بجائے ان کی تربیت گاہوں اور ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی ضرورت ہے، سانحہ شکارپور کے بعد جیکب آباد کا سانحہ سمجھ سے بالاتر ہے، وفاقی وزیر داخلہ اسمبلی کے فلور پر کہتا ہے کہ پورے ملک میں پولیس اور دیگر اداروں کے علاوہ 26 ایجنسیاں کام کررہی ہیں جس کے باوجود جیکب آباد جیسے سانحے کا رونما ہونا حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ جیکب آباد کے شہداء کے ورثاء سے تعزیت کے بعد امام بارگاہ باب الحسن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں دہشت گردی کے دو واقعات ہونا حکومت کی ناکامی اور ثابت کرتا ہے کہ حکومت دہشت گردی کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی فیکٹریاں قائم ہوچکی ہیں جہاں پر دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے حکومت ان فیکٹریوں اور نرسریوں کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنٹینروں کے گھیرے میں عزاداری قبول نہیں کریں گے، عزاداری کے لیے اجازت اور روٹ پرمٹ کی ضرورت نہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ سانحہ شکارپور میں ملوث قرار دے کر جس شخص کو مارا گیا وہ پہلے ہی تین بار مرچکا تھا ایسے ڈرامے نہ کیے جائیں میں ہر بات سے اچھی طرح واقف ہوں، قوم کو بتایا جائے کہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے کون سے ہاتھ ملوث ہیں اور ان کی سرپرستی کو ن کررہا ہے، ہمیں کمزور نہ سمجھا جائے ہم اس ملک میں طاقتور حصہ رکھتے ہیں، اپنی طاقت کے ذریعے قانون کو نہیں توڑنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے ملک خصوصاً پنجاب میں مجلس عزا اور روایتی جلوسوں کے خلاف مقدمات کا سیلاب ناقابل برداشت ہے، مجالس اور جلوسوں کوروکنے کا تصور بھی نہ کیا جائے ہم امن پسند ہیں اسلحہ، ہنگاموں اور توڑ پھوڑ کے قائل نہیں، ہم ملک میں حکومت لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر میرے آگے رکاوٹیں کھڑی کرکے مجھے روکا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران جانے والے قافلوں، مجالس، جلوسوں، امام بارگاہوں پر ہونے والے حملے شیعہ سنی فساد نہیں تیسری قوت ملک میں حالات خراب کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب 89 فیصد کامیاب ہوچکا ہے جس کی مزید کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کاروائیوں کے پیچھے ملوث خفیہ ہاتھ ظاہر کرکے عالمی سطح پر غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے، ہمیں ایسے کمیشن کی ضرورت نہیں جو پاکستان میں بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جیکب آباد سانحہ کے بعد حکومتی اقدامات اطمینان بخش ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169