20 اکتوبر 2015 - 16:13
یاسین ملک پر سکیورٹی فورس کا جان لیوا حملہ، سرینگر میں صورتحال کشیدہ

نوجوانوں اور فورسز اہلکاروں کے درمیان پتھراؤ، جوابی پتھراؤ اور ٹیر گیس شلنگ کا سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا جس دوران جھڑپوں کا سلسلہ لالچوک اور گھنٹہ گھر تک پھیل گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر کے علاقے مائسمہ میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوئی اور نوجوانوں اور قابض فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپوں کا آغاز ہوا جب یہاں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ملک یاسین کی گرفتاری اور قابض فورسز کے ہاتھوں زخمی ہونے کی خبر پھیل گئی۔ اس دوران مائسمہ، امیراکدل، گاؤکدل، بڈشاہ چوک، لاچوک، آبی گذر، کورٹ روڈ اور ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں دکان اور کاروباری ادارے بند ہوئے۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کی گرفتاری اور زخمی ہونے کی خبر پھیلتے ہی مائسمہ میں نوجوانوں نے ٹولیوں میں بٹ کر فورسز اہلکاروں پر مختلف سمت سے خشت باری کی جبکہ فورسز اہلکاروں نے مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی۔ معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں اور فورسز اہلکاروں کے درمیان پتھراؤ، جوابی پتھراؤ اور ٹیر گیس شلنگ کا سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا جس دوران جھڑپوں کا سلسلہ لالچوک اور گھنٹہ گھر تک پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ’’سی آر پی ایف‘‘ نے مائسمہ اور گھنٹہ گھر کے نزدیک ایک درجن کے قریب گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے ہیں جھڑپوں کے نتیجے میں مائسمہ کے ساتھ ساتھ گاؤکدل، بڈشاہ چوک، لاچوک، آبی گذر، کورٹ روڈ اور ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور اسکے مضافات میں دکان اور کاروباری ادارے بند ہوئے، جس دوران یہاں پر معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی اور سڑکوں پر ٹریفک جام لگ گیا۔ کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں تجارتی مرکز لاچوک میں بھی تمام کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲