اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مدل ایسٹ مانیٹرکی سائٹ نے"سامح شاکر"کی ایک تحریرکا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ میں محمود عباس کی تقریر کہ جسے بعض ذرائع ابلاغ نے"ساونڈ بم" سے تعبیر کیا تھا ، نے ایک نئی حکمت عملی پیش کی ہے اورفلسطینیوں کے دل میں امید کی ایک کرن پیدا کردی ہےکہ جو صہیونیوں کےغاصبانہ قبضے کی آگ میں جل رہے ہیں۔
فلسطین لبریشن فرنٹ کے سیاسی دفترکے رکن جمیل مزہرنے کہا ہے کہ محمود عباس کی تقریرسے یہ سمجھ آتی ہےکہ مرکزی کونسل اوراس کے سرفہرست اوسلو سمجھوتے کا التواء، سلامتی ہماہنگی اورپیرس کے معاشی معاہدے کے خاتمے اورصہیونی حکومت کوتسلیم کرنے کے موضوع سےعقب نشینی کے فیصلوں کوعملی جامہ پہنانا چاہیے۔
فلسطین کےجوانوں کو امید ہےکہ اس قسم کے واقعات کے بعد فسلطین نیشنل اتھارٹی کو صہیونی حکومت کی حمایت کے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔
جبکہ فلسطین کےجوانوں کوایک ایک کرکے شکارکیا جارہا ہے اوروہ اس وقت وہ صہیونی حکومت کی جیلوں میں پڑے ہوئےہیں۔
صہیونی حکومت کی پولیس فلسطینیوں کے شہادت طلبانہ اقدامات پربہت غصے میں ہے لیکن یہودیوں کے مظالم کےسامنے خاموش ہے بلکہ وہ خوش ہوتی ہے۔ فلسطینیوں کے صہیونی قاتلوں کو کبھی بھی گرفتارنہیں کیا جاتا۔ جب فلسطینی جرم کے دوران تصویربناتے ہیں توصہیونی حکام اپنے آپ کو بری الذمہ قراردینے کے لیے ہزاروں قسم کے بہانے کرتےہیں۔
اس وقت بہت سے لوگ منتظرہیں کہ صہیونیوں کے یہ اقدام تیسرے انتفاضے کا سبب بنتےہیں یا نہیں؟ پہلے اوردوسرے انتفاضے کی طرح یہ اقدام بھی صہیونیوں کے لیے ایک خطرناک اقدام ثابت ہوگا۔
.......
/169