اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تہران کے فلسطین اسکوائرپرواقع امام صادق علیہ السلام نامی مسجد میں نمازمغربین کے بعد منیٰ میں شہید ہونے والے قراء کی یاد میں مجلس ترحیم منعقد ہوئی ہے جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکرحجۃ الاسلام سید محمد حسن ابوترابی فرد ،سانحہ منیٰ میں شہید ہونے والے قراء کے لواحقین اوربعض قراء نے شرکت کی ہے۔
حج الاسلام ابوترابی فرد نےاس پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران اللہ کی طرف ہجرت کرنے والے قراء کے بلند اوراعلیٰ مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ سانحہ منیٰ میں شہید ہونے والے قراء کی زبان قرآنی آیات کی تلاوت اوراللہ تعالیٰ کے ذکرسے مزین تھی۔
انہوں نے سانحہ منیٰ کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں سانحہ منیٰ کی مثال نہیں ملتی ہےلہذا اسلام،ایران،حج اورعرفات کی تاریخ اس سانحہ کوفراموش نہیں کرے گی۔ یہ سانحہ کہ جس نے دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی اورآن کی آنکھووں کو اشک بارکردیا ہے، عالم اسلام میں تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا کہ جومومنین پراللہ کی رحمت اوردشمنوں پراس کے غیض وغضب کے نزول کی نوید دیتا ہے۔
حجۃ الاسلام ابوترابی فرد نے اس مطلب کہ اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والے شہداء کے چہروں پررحمت الہی کا جلوہ تھا جبکہ اس کے مقابلے میں اس سانحہ کا سبب بنے والے افرا دکے چہرے سیاہ اوران کے دل ظلمت،نفرت اوراللہ کے غضب سے بھرے ہوئے تھے۔ اس سانحہ نے عالم اسلام کے فہم میں ایک نیا ماحول ایجاد کردیا ہے اورآج امت مسلمہ آپس میں متحد ہوگئی ہوئی ہے تاکہ وہ ان نام نہاد مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ جولوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اورپھرایران، افریقہ،ایشیا اورعرب وعجم کے شیعہ اورسنی مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہیں،ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اوروہ بیگانوں کے غلام ہیں۔
انہوں نے آخرمیں کہا ہےکہ آل سعود وہ افراد ہیں کہ جنہوں نے حجاج کرام اورامت مسلمہ کے جشن کی مٹھاس کوزہرمیں بدل دیا ہے لیکن الحمدللہ قائد انقلاب اسلامی کے بیانات کے بعد حاجیوں کے بدنوں کی شناخت،ان کے ایران میں انتقال اورپھرتشییع جنازہ کی راہ ہموارہوئی ہے۔
.......
/169