اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک سے تہران واپس پہنچنے پر مہر آباد ایرپورٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی حکام کو چاہئے کہ اپنے بین الاقوامی اور قانونی فرائض پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو واضح کریں کہ منی کا واقعہ کیوں اور کس بنا پر رونما ہوا۔
صدر مملکت نے کہا کہ ایران کی نظر میں منی کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور سعودی حکومت کو چاہئے کہ اس واقعے کی ویڈیو فلم دکھائے۔ انھوں نے کہا کہ منی کے حادثے کا شکار ہونے والوں کی حالت نہایت افسوسناک ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے غیر ملکی حجاج کرام کے سلسلے میں سعودی حکام کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منی کے سانحے کے بارے میں سعودی ذرائع ابلاغ سے نشر کی جانے والی غلط رپورٹوں پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ سعودی حکومت، منی حادثے کے بارے میں فلم دکھانے کے بجائے لوگوں کے لئے انیمیشن تیار کرکے اسے دکھا رہی ہے جو مسلمان قوموں کی کھلی توہین ہے۔
صدر مملکت نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کی حکومت، منی میں جاں بحق ہونے والے ایرانی حجاج کے حقوق کی بحالی کے لئے اپنے قانونی فرائض پر عمل کر رہی ہے اور اس سلسلے میں وہ کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی۔
واضح رہے کہ ایران کے صدر اپنا دورہ نیویارک مختصر کرکے منگل کے روز واپس تہران پہنچے ہیں۔
منی کے سانحے میں چار ہزار سات سو سے زائد حجاج کرام جاں بحق ہوئے ہیں جن میں دو سو اٹھّائیس ایرانی حجاج شامل ہیں جبکہ اٹھّائیس ایرانی حجاج زخمی ہوئے ہیں اور دو سو اڑتالیس ابھی تک لاپتہ ہیں۔ منی کے سانحے میں جاں بحق ہونے والے ایرانی حجاج کی کچھ لاشوں کو آج تہران منتقل کیا جا رہا ہے۔
.......
/169