27 ستمبر 2015 - 13:54
روحانی بان کی مون ملاقات: آل سعود کا یمن پر حملوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کردیا جائے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے تشدد اور انتہا پسندی سے پاک دنیا کے قیام کی قرار داد پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ساتھ ملاقات میں زور دیا ہے کہ وہ تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کو مربوط بنانے کی غرض سے "تشدد اور انتہاپسندی سے پاک دنیا" کی قرارداد پر عمل درآمد کے لئے اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لائیں۔ 

ڈاکٹر حسن روحانی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستّرویں اجلاس میں شرکت کے لئے ان دنوں نیویارک میں ہے۔ صدر حسن روحانی نے علاقائی حالات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی کے علاقے کو ان دنوں مختلف طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی اور قحط کا بحران سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بحرانوں کے نتیجے میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کو بدامنی اور تشدد کا سامنا ہے۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ علاقائی بحرانوں کے حوالے سے اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں اور خطے کے ملکوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
صدر ایران نے شام، عراق اور یمن میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں اور بدامنی کے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ملکوں کی جانب سے یمن اور شام میں مداخلت پسندانہ اقدامات کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔
صدر نے یمن پر بمباری کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے اور انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ بیرونی مداخلت کے بغیر تمام یمنی دھڑوں کے درمیان مذکرات کے ذریعے اس ملک میں پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے اور ایران اس سلسلے میں اقوام متحدہ نیز خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے۔
صدر حسن روحانی نے شام میں بعض ملکوں کی جانب سے کی جانے والی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض حکومتیں دہشت گردی کے خاتمے سے زیادہ شام کی وفاقی حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہیں حالانکہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے سب سے پہلے شام کی حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جو اس جنگ کی قیادت کررہی ہے۔
صدر نے منیٰ کے سانحے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ سعودی حکومت لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں اور لاشوں کو متنقل کرنے کے سلسلے میں ضروری تعاون نہیں کررہی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ سعودی حکومت کو اس کی قانونی اور انسانی ذمہ داریوں کی یاددہانی کرائیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس موقع پر سانحہ منیٰ میں بڑی تعداد میں ایرانی حاجیوں کے جانی نقصان پر تعزیت پیش کی۔ دونوں رہنماؤں نے یمن اور شام میں قیام امن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169