اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سینٹ میں جمعرات کو ووٹنگ کا عمل انجام پایا جس میں ریپبلکن اور چاردیموکریٹ سنیٹروں کے مقابلے میں بیالیس ڈیموکریٹ اور آزاد سنیٹروں نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کومسترد کئے جانے کی قرارداد کی مخالفت کی ۔
اس طرح ڈیموکریٹ اقلیت کے ذریعے فلی بسٹر سے استفادے کے لئے پہلا قدم اٹھایا گیا۔ فلی بسٹر کا طریقۂ کار اقلیتی دھڑے کو یہ اجازت دیتاہے کہ سینٹ میں ایک سو میں سے کم سے کم اکتالیس ووٹ اس کے پاس ہوں تو وہ مذاکرات کو آگے بڑھاکر کسی بھی بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈال سکتاہے۔
اس اقدام سے ایسا نظر آتاہے کہ امریکی سینٹ، ایران کے ایٹمی پروگرام کا جائزہ لینے کے قانون، "کروکر کاڈین" کی بنیاد پرمعینہ وقت یعنی سترہ ستمبر تک اس بل کورائے شماری کے لئے پیش نہ کرے لیکن ریپبلکن نے بیالیس سنیٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں وائٹ ہاؤس کی قابل ذکرکامیابی کے باوجود ابھی اپنی ہارنہیں مانی ہے۔
سینٹ میں اکثریتی دھڑے کے رہنما "میچ میک کانل" نے منگل پندرہ ستمبرکو دوبارہ اس بل کو رائے شماری کے لئے پیش کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے مسترد کئے جانے کی قرارد اد پررائے شماری کا التوا میں ڈال دئے جانے کے ساتھ ساتھ تین الگ الگ تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ایک تجویز میں ریپبلکنز نے کہا ہے کہ اوبامہ کی حکومت نے ایران اور آئی اے ای اے، کےمابین خفیہ سمجھوتے کی دستاویز تحویل میں لینے سے انکار کردیاہے اور اسی وجہ سے ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتےکا جائزہ لینے کا ساٹھ روزہ پروگرام بھی شروع نہیں ہوسکاہے تاکہ اس کے بارے میں رائے شماری کی جاسکے۔
اسی طرح ایک اور تجویز میں امریکی ایوان نمایندگان کے ریپبلکز ، اس کوشش میں ہیں کہ امریکی حکومت کو ایران کے خلاف کانگریس کی پابندیوں کے التوا سے روک دیں۔
بہرحال امریکی کانگریس میں ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کے مخالفین اورحامیوں کے مقابلے کے پیش نظر بعید نظرآتاہےکہ سترہ ستمبر تک ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے مخالفین اپنی کوششوں میں کامیاب ہوسکیں۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے یہ اعلان کردیا ہے کہ کانگریس صرف سترہ ستمبر تک ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کا جائزہ لے سکتی ہے اس کے بعد امریکہ کی جانب سے یہ معاہدہ نافذالعمل قرار پائے گا۔
بہرحال مسلمہ امر یہ ہے کہ امریکی کنزرویٹیو دھڑوں اورغاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے حامیوں کی ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مابین سمجھوتے کے خلاف صف آرائی، ابتک کسی نتیجے پرنہیں پہنچی ہے ۔
امریکہ کے صدر بارک اوباما اور ڈیموکریٹ دھڑے کے رہنماؤں کے نقطۂ نظر سے ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے پر دست رسی، موجودہ امریکی حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے لیکن حزبی اور سیاسی رقابت سے ہٹ کر ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے امریکی کانگریس کی ہم خیالی، امریکی معاشرے کے نقطۂ نظر سے حساس بین الاقوامی مسائل کو سفارتی طریقے سے حل کئے جانے اورجنگ سے نفی کی غماز ہے۔
چنانچہ اس کے باوجود کہ ملت ایران سے امریکی کانگریس کے بعض ڈیموکریٹ اراکین کی دشمنی میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے لیکن ان لوگوں نے ایران کے ساٹھ ایٹمی معاہدے کی حمایت کی ۔ اس لئے کہ جنگ اوربین الاقوامی ماجراجوئیوں سے وہ تنگ آچکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲