اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر سرافراز نے کہا ہے کہ آج عالم اسلام کے خود مختار ذرائع ابلاغ زیادہ طاقتور اور اپنے عروچ پر پہنچ چکے ہیں۔ ڈاکٹر محمد سرافراز نے منگل کو اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کے آٹھویں اجلاس کی اختتامی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران نے اس عالم میں جبکہ مغربی اور علاقائی ملکوں کا باطل میڈیا، جارحین اور مسلح گروہوں کی حمایت کر رہا تھا، ایک خودمختار میڈیا کی بنیاد رکھی اور آج یہ میڈیا طاقتور ہوکر اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد سرافراز نے کہا کہ مشرق وسطی کے علاقے میں تبدیلیاں لانے اور بحران پیدا کرنے کا مقصد فوجیں بھیج کر قبضہ کرنا اور پراکسی وار چھیڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق و افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے میں امریکہ کی شکست، لبنان پر حملوں میں صیہونی حکومت کی شکست اور علاقے کا بٹوارہ کرنے کی سازش کی ناکامی ہی آج مشرق وسطی میں پراکسی وار پر منتج ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور علاقے کے بعض ملکوں نے اسلامی بیداری کو داخلی جنگوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر محمد سرافراز نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں نے علاقائی اور بیرونی طاقتوں کی نمائندگی میں علاقائی عوام پر پراکسی وار مسلط کردی، جو شام سے شروع ہوکر یمن تک پہنچی اور اب بھی جاری ہے۔ ڈاکٹر سرافراز نے کہا کہ ایران کا قومی میڈیا اسی جنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ آئی آر آئی بی کے سربراہ نے کہا کہ علاقے میں جاری پراکسی وار نے یمن میں سعودی عرب اور شام میں ترکی کی مداخلت سے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور ان ملکوں کی جانب سے اس پراکسی وار کا شروع کیا جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے اہداف تک نہیں پہنچے ہیں اور اس محاذ کے اہداف اور روشوں میں تبدیلیاں آتی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر سرافراز نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی اس فضا میں اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کا فریضہ ہے کہ وہ صیہونی حکومت اور امریکہ کی جارحیتوں کے مقابلے میں استقامت کی ثقافت پر گامزن رہتے ہوئے اسے تقویت پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم اسلامو فوبیا کا مقابلہ کریں اور اس کے بعد اہل عالم کو اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی چہرے سے آشنا کرائیں تاکہ اسلام کے خلاف مغربی ذرائع ابلاغ اور دہشت گرد گروہ داعش کے وسیع حملوں کا مقابلہ کر سکیں۔
.......
/169