اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے نائب صدر نوری مالکی نے تہران میں جاری اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے اجلاس اور امام سجاد (ع) پر بین الاقوامی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ مکتب اہل بیت(ع) کی برجستہ شخصیات کے درمیان ہوں تاکہ ان چیلنجوں کا راہ حل تلاش کر سکیں جن سے اس وقت اہل تشیع دوچار ہیں۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی وہ ادارہ ہے جس کے سائے میں مختلف ملکوں کی اہم شیعہ شخصیات اکھٹا ہوتی ہیں۔ مسلمان اہل بیت(ع) سے محبت کرتے ہیں اور اس طریقے سے پیغمبر اکرم سے نزدیک ہوتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ابتدائے اسلام سے ہی اہل بیت(ع) سے ساتھ دشمنی شروع کر دی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ان معاشروں سے حساسیتوں کو کم کریں جن میں شیعہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ہمارا تعلق اہل بیت(ع) کے مدرسے سے ہے، وہ مدرسہ جس میں عرفان امام خمینی نے سکھایا تاکہ بادشاہی حکومت کو ختم کیا جائے۔ وہ مدرسہ جس میں شہید صدر کو فداکاری کا درس دیا گیا انہوں نے سماج کی آزادی کے لیے اپنی جان کی قربانی لگائی۔
انہوں نے مزید واضح کیا: اسلامی جمہوریہ ایران رہبر انقلاب اسلامی کی رہبریت میں مدرسہ اہل بیت(ع) اور اس کے پیروکاروں، بلکہ تمام مسلمانوں کی مختلف سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں حمایت کرتا ہے ہم اس تلاش و کوشش کو سراہتے ہیں اور ہمارا بھی یہی مقصد ہے۔ ہم شیعوں کے درمیان آپسی اتحاد، دیگر اسلامی مذاہب سے نزدیک ہونے کا سبب بنے گا۔ جب تک شیعوں کے درمیان اتحاد پیدا نہیں ہو گا دیگر مذاہب سے قربت بھی ممکن نہیں ہو گی۔
عراق کے نائب صدر نے کہا: عراق کے شیعہ، تکفیریوں سے رنج و الم میں ہیں عراق میں استعماری طاقتوں نے صدام کی حکومت سرنگوں ہوتے ہی اپنے پروپیگنڈے شروع کر دئیے اور سعودی عرب اور اسرائیل نے اپنے مزدوروں کا استعمال کر کے عراق کو تقسیم کرنے کی سازش رچا لی۔
نوری مالکی نے مزید کہا: مختلف ملکوں میں کشیدگی کی اصلی وجہ وہابیت اور صہیونیت ہے۔ جب تک وہابیت رہے گی تکفیری ٹولے القاعدہ، داعش اور بوکوحرام وجود میں آتے رہیں گے۔ جب تک صہیونیت رہے گی مسلمان حملوں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ صیہونیت صرف میدان جنگ میں شیعوں کے ساتھ جنگ نہیں کرتی بلکہ ہر میدان میں برسرپیکار ہے اسرائیل کے ہوتے ہوئے زندگی ناسور ہے لہذا جس طرح وہابیت سے لڑنا ضروری ہے اسی طرح صیہونیت سے بھی لڑنا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲