15 اگست 2015 - 12:41
شیخ نعیم قاسم: ولایت فقیہ اسلام کی عالمی کامیابی کا معیار ہے

انہوں نے کہا کہ تمام اسلامی تحریکیں صرف اسلامی انقلاب کو نمونہ قرار دے کر ہی کامیابی کے مراحل طے کر سکتی ہیں بلکہ اسلام کو اگر عالمی پیمانے پر کامیابی حاصل ہو گی تو وہ صرف ولایت فقیہ کے زیر سایہ ہو سکتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ لبنان کے نائب سکریٹری جنرل نے اہل بیت(ع)عالمی اسمبلی کے چھٹے اجلاس اور امام سجاد علیہ السلام پر عالمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے امام سجاد علیہ السلام کی دعاوں کے مجموعہ کو عالم اسلام کو اسلامی معارف سے نزدیک کرنے کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ یہ دعائیں خاص طور پر دعائے مکارم الاخلاق مسلمانوں کے درمیان اخلاقی خوبیوں کو وجود میں لانے اور آپس میں ہمدردی اور ہمدلی پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے عالم اسلام میں پائے جانے والے موجودہ مسائل کا راہ حل اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل بتاتے ہوئے کہا کہ تکفیری ٹولوں کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ اسلام کو صحیح نہیں سمجھ پائے ہیں اور اسلام کی غلط تفسیر پر عمل کرنے کے باعث موجودہ مشکلات کو وجود میں لائے ہیں۔
شیخ نعیم قاسم نے اسلامی سماج کی کامیابی میں اہل بیت طہار(ع) کی تعلیمات کو بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کو حاصل شدہ گزشتہ تمام کامیابیاں اور کامرانیاں اہل بیت(ع) سے توسل اور ان کی تعلیمات پر عمل کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے مسلمانوں کی کامیابی کا راز بھی اہلبیت(ع) کی تعلیمات میں مضمر گردانتے ہوئے کہا: اہل بیت اطہار(ع) اپنے دور کے سماج میں سب سے بہترین اور اعلی ترین کردار کے مالک رہے ہیں یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا یہ کردار صحیح اسلامی تعلیمات کی سائے میں تھا آج بھی اگر اسلامی ممالک کے سربراہان اور حکام ان کی زندگی کو اپنا عملی نمونہ بنا لیں یقینا کامیابیاں ان کے قدم چومیں گی۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی مذاکرات میں کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو حاصل اس کامیابی سے مغربی افکار میں کافی حد تک تبدیلی واقع ہوئی ہے یہ چیز اس بات کا سبب بنے گی کہ اسلامی جمہوریہ ایران باغی ممالک کے مقابلے میں مزید استقامت اور پائیداری کا ثبوت دے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اسلامی تحریکیں صرف انقلاب اسلامی ایران کو نمونہ قرار دے کر ہی کامیابی کے مراحل طے کر سکتی ہیں بلکہ اسلام کو اگر عالمی پیمانے پر کامیابی حاصل ہو گی تو وہ بھی صرف ولایت فقیہ کے زیر سایہ ہو سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲