اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ محرمانہ اسناد کی بنیاد پر کہ جو حال ہی میں منکشف ہوئی ہیں سعودی عرب اور قطر کے سربراہوں نے حالیہ برسوں میں یمن میں قبایلی اور مذہبی اختلاف اور فتنہ پیدا کرنے کی لگاتار کوشش کی ہے ۔
ان دستاویزوں میں سے ایک میں علی بن عبد العزیز الخضیری ، نے کہ جو سعودی عرب کی وزیروں کی مخصوص کمیٹی کا قائم مقام ہے ان میں سے کسی ایک دستاویز میں تاکید کی ہے کہ حوثیوں ( انصار اللہ تحریک ) اور زیدی مذہب کے ماننے والوں کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے کے لیے کوشش کی جائے ۔
یمن میں قومیتی اور قبایلی جنگ چھیڑنا
الخضیری نے اس سند میں تاکید کی ہے کہ یہ اختلافات ایسے دکھائی نہیں دینا چاہییں کہ گویا یمن میں شیعوں اور سنیوں کے درمیان جنگ چل رہی ہے یا یہ کہ اس کے پس پردہ سعودی عرب کا ہاتھ ہے ۔
وہ اسی طرح اس دستاویز میں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ ۱۷ / ۲ / ۱۴۳۳ (۱۲ / ۱ / ۲۰۱۲ ) کی گذشتہ دستاویز کے مطابق ، وزیروں کی خاص کمیٹی اور نجران کے علاقے کی امارت کے درمیان ارتباطات اور ٹیلیفونوں کا سلسلہ ان قبایل کی حمایت کرنے کے سلسلے میں کہ جو حوثیوں کے خلاف جنگ کے لیے ایک دوسرے کے حلیف بنے ہیں جاری ہے ۔
انصار اللہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے یمنی قبایل کی حمایت کا حصول
الخضیری نے اسی طرح مورخہ ۱۴ / ۳ / ۱۴۳۳ امنیتی امور میں نائب وزیر داخلہ کے نام ایک ٹیلیکس میں سعودعرب کے وزیر دفاع کے ایک ٹیلیکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ ٹیلیکس خاص کر ان اطلاعات کے بارے میں ہے کہ جو وزیر دفاع کو حوثیوں کے مخالف یمنی قبایل کے سرداروں کے ساتھ یمن کے صوبہء الجوف میں ملاقات کے بعد ہاتھ لگی ہیں ۔اور سعودی عرب کے وزیر دفاع نے اس ٹیلیکس میں تاکید کی ہے کہ وزیروں کی مخصوص شوری کی کمیٹی کو چاہیے کہ غیر مستقیم طریقے سے ان قبایل کی لازمی اور سریع حمایت کے مسئلے پر غور و خوض کریں تا کہ وہ حوثیوں کا مقابلہ کر سکیں ۔
یمن میں فتنہ اور بحران قطر کی بھاری مالی امداد کے ذریعے
الخضیری نے امنیتی امور میں نائب وزیر داخلہ کے نام ایک ۸ / ۳ / ۱۴۳۳ کے ٹیلیکس میں یمن میں فتنہ بر پا کرنے کے قطر کے منصوبے سے پردہ اٹھایا ہے اور لکھا ہے : مختلف ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو اس چیز کو بیان کرتی ہیں کہ قطر کی حکومت فتنہ برپا کرنے اور سیاسی مسائل کو تار مار کرنے کے لیے بھاری رقم خرچ کر رہی ہے اور اس نے دو کروڑ پچاس لاکھ ڈالر اس کام کے لیے مخصوص کیے ہیں ۔اس منصوبے کی ذمہ داری شیخ حمید الاحمر کے کاندھوں پر ہے ،اور اس وقت فوجی اور امنیتی طاقتوں کی طرف سے جو اعتراضات ہورہے ہیں وہ ان کی حمایت کر رہا ہے اور فوجوں کو امنیتی کمانڈروں سے جدا ہونے اور ان کی سر کشی کرنے پر اکسا رہا ہے ،وہ تنخواہوں کے مطالبے کے تحت اعتراضات کو آگے بڑھا رہا ہے ،لیکن واقعیت یہ ہے کہ وہ ۲۱ فروری کے صدارتی انتخابات کو شکست سے دوچار کرنا چاہتا ہے ،اور اگر انتخابات ہو بھی جاتے ہیں تو نیا صدر فوجی اور امنیتی اداروں کو ایسی حالت میں اپنی تحویل میں لے کہ وہ سب کے سب کمزور اور بغیر کمانڈر کے ہوں ؛ واقعیت یہ ہے کہ وہ ملک یمن کو دردناک حالت کی طرف لے جانا چاہتا ہے ۔
جاسوسی کے لیے مخالفین کو جذب کرنا اور یمن میں مداخلت کے جاری رہنے میں مدد کرنا
امنیتی امور میں سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ محمد بن نایف بن عبد العزیز نے بھی ۱۵ / ۳ / ۱۴۳۳ کے ٹیلیکس میں وزیروں کی شوری کی مخصوص کمیٹی کے قائم مقام علی بن عبد العزیز الخضیری سے خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے ،ان مطالب کے پیش نظر کہ جن کی طرف اس نے گذشتہ ٹیلیکس میں اشارہ کیا تھا ،اور یہ کہ عبد الرحمن علی محمد الجفری کی کوشش ہے کہ جنوب یمن کے مسئلے میں اپنی من مانی کرے ،اور حیدر ابو بکر العطاس نے تمام فریقوں کے ساتھ اس کے تعاون نہ کرنے کی شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ فیڈریلزم میں توافق کے باوجود وہ اکیلا کام کرتا ہے ۔۔۔ اور آپ کی رائے کے پیش نظر کہ آپ نے تاکید کی ہے کہ اس کو کہا جائے کہ وہ اعتدال پسند رہنماوں جیسے العطاس وغیرہ کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے کہا جائے ۔
وہ موضوع کہ جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ مناسب ہے ۔۔ الجفری کا سابقہ رءوساء کے ساتھ رابطے کا جاری رہنا ان کے جھکاو کی دلیل کی بنا پر اہم ہے ۔ اس کی طرف سے پیش کردہ درخواست کے سلسلے میں اس سے کہا جائے کہ یمن میں جو ایرانی فریق ہے اس کے کاموں اور اس کے نظریات کے بارے میں رپورٹ پیش کرے ،اسی طرح اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا جائے کہ یمن میں عملی طور پر کیا کیا جا سکتا ہے ۔۔۔اور جو کچھ وہ بتائے گا اس کی بنیاد پر یہ پتہ چل جائے گا کہ کس حد تک اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ، اور یہ کہ آیا اس کی حمایت کی جا سکتی ہے یا نہیں ۔
سعودی عرب کی یمن کے صدارتی انتخابات میں مداخلت اور ھادی کی حمایت
یمن کے پایتخت میں سعودی عرب کے سفیر علی ابن محمد الحمدان کے ایک ٹیلیکس میں یمن کے امور میں وسیع پیمانے پر اس کی مداخلت سے پردہ اٹھایا گیا ہے ۔
الحمدان نے اس ٹیلیکس میں کہ جس کو بہت مخفی اور بہت فوری جیسے الفاظ سے شروع کیا گیا ہے ،اس نے ولی عہد نایف بن عبد العزیز ،وزیر داخلہ اور شورائے وزراء کمیٹی کے نائب صدر اور خاص کمیٹی کے صدر کو لکھا ہے :عبد ربہ منصور ہادی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ پہلے بھی آپ سے انتخابات میں فوری کمک کا مطالبہ کر چکا ہے اور وہ اس وقت مشکل میں ہے اور ووٹ پڑنے میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں ،اس کو امید ہے کہ فوری اس کی مالی امداد کی جائے گی ۔
............
242