1 اگست 2015 - 16:31
علامہ ناصر عباس جعفری کی شہید عارف حسینی کی برسی میں شرکت پر تاکید

علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ 9 اگست کو اسلام آباد میں شہید عارف حسین الحسینی کی برسی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنا کر شہید کی فکر اور بصیرت کو زندہ رکھیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ 9 اگست کو اسلام آباد میں شہید عارف حسین الحسینی کی برسی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنا کر شہید کی فکر اور بصیرت کو زندہ رکھیں۔ آپ آئیں گے تو دشمن کو پیغام جائے کہ جسے ہم نے اس قوم سے چھین لیا تھا، وہ چھنا نہیں، اسکی فکر باقی ہے اور وہ زندہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ ناصر عباس نے دوبندی سیداں، علاقہ پنج کٹھہ، ہری پور ہزارہ میں بیداری ملت کانفرنس کے سلسلہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔ سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام نے معاشرے کی اصلاح کے لئے خروج کیا، امام حسین محمدی معاشرہ کی تشکیل کے لئے نکلے، محمدی و حسینی معاشرے کی چند خصوصیات تھیں، امام حسین (ع) چاہتے تھے معاشرہ بیوفا نہ ہو، خودغرض نہ ہو، معاشرہ جب بیوفا ہو جائے تو انسانیت کے دائرہ سے نکل جاتا ہے، معاشرے کی مردہ وفا کو زندہ کرنے کے لئے امام حسین علیہ السلام، اپنے ساتھ حضرت عباس (ع) کو لائے۔ جو مسیحائی کرے اور مرے ہوئے معاشرے کو وفا کی خیرات دے۔ عباس علمدار (ع) وفا کی زینت ہے۔ عباس نے وفا کو عروج بخشا۔ امام (ع) چاہتے تھے معاشرہ نڈر و شجاع ہو۔ سہما ہوا اور خاموش معاشرہ یزید کی آرزو تھی۔ یزید چاہتا تھا کہ لوگ خوف کے زندان کے قیدی ہوں، سر اس کے مقابل جھکے ہوں۔ امام حسین (ع) چاہتے تھے لوگ شجاع و نڈر ہوں، خوف کے زندان کو توڑ کر لوگ سر اٹھا کر زندگی بسر کریں۔ امام معاشرے کی اصلاح کے لئے اپنے پیاروں کو قربان کرنے کے لئے ساتھ لائے، یہ تمام لوگ ثابت قدم رہے۔ یزید نے دیکھا کہ ان کے بڑے تو کجا بچے بھی سربلند ہیں۔

ہمارے موجودہ معاشرے میں دہشت گردوں، لاقانونیت، جھوٹے پرچوں کا خوف پیدا کرکے انسانوں کو زیر کیا جاتا ہے۔ تاکہ لوگ خاموش رہیں اور اپنے حقوق کی بات نہ کر سکیں۔ امام حسین (ع) ظالموں کے ساتھ زندگی کو ننگ و عار سمجھتے تھے، بدمعاش اور کرپٹ افراد سے دوستی کو عار سمجھا۔ امام (ع) نے دیکھا کہ معاشرہ ظلم پذیر ہو گیا ہے، ظلم کے سامنے سرنگوں ہو گیا، امام (ع) چاہتے تھے کہ معاشرہ ظلم ستیز ہو، ظلم سے ٹکرانے والا ہو۔ ہمارے آئمہ قیدخانوں میں پابند سلاسل، شہادت کے جام نوش کرتے رہے لیکن کربلائیوں والے سفر کو جاری و ساری رکھا۔ پاکستان میں شہید حسینی (رض) اسی راستے کے راہی تھے، ظلم سے ٹکرانے والا شجاع اور دلیر شخص تھا۔ معاشرے کی مسیحائی کرتے ہوئے شہید قائد رضوان اللہ علیہ اسے کربلائی اصولوں کے مطابق استوار کرنا چاہتے تھے۔ شہید حسینی امام کا وہ سچا فرزند تھا جو کربلا کاراہی تھا، جس نے اپنے لہو میں ڈوب کر خود کو امام مظلوم علیہ السلام کے سامنے سرخرو کیا۔ ہم اپنے قائد کو نہ پہچان سکے، آپسی جھگڑوں میں الجھے رہے، مقصر و وہابی کی بحث میں پڑے رہے۔ 9 اگست کو شہید کی برسی اسلام آباد میں منائی جائے گی، جس میں بھرپور شرکت کو یقینی بنا کر شہید کی فکر اور بصیرت کو زندہ رکھیں۔ آپ آئیں گے تو دشمن کو پیغام جائے کہ جسے ہم نے اس قوم سے چھین لیا تھا، وہ چھنا نہیں، اسکی فکر باقی ہے اور وہ زندہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲