اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر صحت نے مشہد مقدس میں جاری مسلمان ڈاکٹروں کی عالمی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے امام راحل کے اس قول کی طرف اشارہ کیا کہ یونیورسٹیاں تمام تبدیلیوں کا محور ہیں اور کہا: آج کی دنیا میں صرف وہ ملک اور قوم کامیاب ہے جس میں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہوں اور یقینا بغیر علم کے دنیا میں کوئی کامیابی نہیں ہے۔ ایران میں علم کی طرف توجہ کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور ہمارا یہ ماننا ہے کہ مسلمان اگر پڑھا لکھا ہے تو یقینا طاقتور بھی ہے۔
انہوں نے کہا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے دور میں ایران کے اندر صرف پانچ میڈیکل یونیورسٹیاں تھی جبکہ آج ۹۱ یونیورسٹیاں موجود ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے انقلاب اسلامی نے علم اور پڑھائی لکھائی کو خاص اہمیت دی ہے۔
ڈاکٹر قاضی زادہ ہاشمی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت صحت دنیا کے تمام شیعہ ڈاکٹروں کے ساتھ تعاون کی خواہاں ہے اور ان کی علمی ترقیوں پر فخر بھی کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات کی اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت ایران علمی میدان میں دنیا میں ۱۷ ویں نمبر پر ہے کہا: ایران نے یہ درجہ ایسے حالات میں حاصل کیا ہے کہ اس پر پابندیوں کا طوفان ٹوٹا ہوا تھا یہاں تک کہ دنیا کے بہت سارے اہم مجلات و جرائد ایرانیوں کے مقالے چھاپنے کو تیار نہیں ہوتے۔
وزیر صحت نے ایران میں تمام بیماریوں کے علاج درکار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پہلے دور میں بعض صعب العلاج بیماروں کو بیرونی ملک بھیجا جاتا تھا لیکن آج نہ صرف کسی بیمار کو باہر نہیں بھیجا جاتا بلکہ باہر سے آنے والے بیماروں کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔
انہوں نے شیعہ ڈاکٹروں کو ایک اہم تجویز دیتے ہوئے کہا: شیعہ اسٹوڈنٹس کے لیے بین الاقوامی سطح پر میڈیکل یونیورسٹی کی بنیاد رکھنا ایک عظیم کارنامہ ہو گا ایران بھی جس کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے آخر میں ایران کے شہید ڈٓاکٹروں کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ڈاکٹر اس قدر وظیفہ شناس ہیں کہ جنگ کے دوران فرنٹ لائن پر جا کر زخمیوں کا معالجہ کرتے رہے ہیں تاکہ اسلام اور ایران کا دفاع کرنے میں ان کا بھی حصہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲