16 جولائی 2015 - 12:26
اسرائیل کے جوہری ہتھیار مشرق وسطیٰ کے لیے بڑا خطرہ: امریکی پروفیسر

صیف دانا نے کہاکہ اسرائیل کے جوہری تنصیبات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور خطے کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کیلئے اسرائیل کے جو ہری تنصیابات کو ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی پروفیسر ’’صیف دانا ‘‘ نے عرب لیگ کے سربراہ نبیل  العربی کی جانب سے اسرائیل کے جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دئے جانے پر پریس ٹی وی کے ساتھ انٹریو میں کہاکہ اسرائیل کا جوہری پروگرام مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نےکہاکہ عالمی طاقتوں کی طرف سے اسرئیل کے جوہری پروگرام کے تیئں دہرا معیار اپنانا کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ یہی طاقتیں اسرائیل کے  جوہری پروگرام کی بھر پورحمایت کرتے آرہے ہیں ۔
انہوں نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کو پوری دنیاک یلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں صیہونی حکومت ہی وہ واحد جارح و ظالم حکومت ہے جوہمسایہ ممالک پر مسلسل جارحیت کرتی آرہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ دیچا وی بانوانو کو اسرائیل نے اس لیے20 سال سے زائد مدت تک جیل میں رکھا کیونکہ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا تھاکہ فرانس اور امریکہ دونوں اس بات سے واقف ہیں کہ اسرائیل گذشتہ کئی دہائیوں سے جوہری ہتھیار تیار کررہاہے ۔
موصوف تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اسرائیل خطے کا وہ پہلا ملک ہے جس نے ایٹمی ہتھیار بنانا شروع کئے تھے جوکہ علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا باعث بنی ہے ۔
انہوں نےکہاکہ اسرائیل کہ جس نے خطے کو پہلی بار اس خطرناک پروگرام کو سے متعارف کرایا کو مورد الزام ٹھہرنا چاہیے کیونکہ وہ خطے کی واحد جوہری ریاست ہے ۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے خواہشمند افراد سے اپیل کی کہ اگر وہ واقعی خطے میں امن استحکام کی بحالی چاہتے ہیں تو انہیں مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنےکیلئے سب سے پہلے اسرائیل کے جوہری پروگرام پر پابندی لگانی چاہے ۔
موصوف پروفیسرکا کہنا تھاکہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کو آئی اے ای اے کی نگرانی میں لانا مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم کرنے کیلئے انتہائی اہم ہے ۔
صیف دانا نے مزید کہاکہ اسرائیل کے جوہری تنصیبات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور خطے کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کیلئے اسرائیل کے جو ہری  تنصیابات کو  ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲