اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عالم اسلام کے سائنس کے استنادی مرکز آئی ایس سی[Islamic World Science Citation Center (ISC)] کے سرپرست ڈاکٹر محمد جواد دھقانی نے کہاا : سائنسی ترقی کی رشد اور ترقی کا سہرہ زیادہ تر سائنسی ممتاز افراد کے سر جاتا ہے ،لہذا ان کی شناسائی کی اپنی جگہ پر بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ سائنسی میدان میں ترقی یافتہ ملک پوری دنیا سے ممتاز افراد کو جذب کرنے کے لیے سرمایہ لگاتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا کے ممتاز سائنسدان ان ملکوں کی طرف بڑی تعداد میں ہجرت کرتے ہیں ۔
دھقانی نے مزید کہا : دنیا کے ایک فیصد ممتاز سائنسدان پوری دنیا کے سائنس کے ۱۴ فیصد کو پیدا کرتے ہیں اور یہی گروہ دنیا کی کل تعداد میں سے ۲۴ فیصد استناد کو دریافت کرتے ہیں ۔آئی ایس سی نے دنیا بھر کے ایک فیصد سائنسی علمداروں کی فہرست مرتب کی ہے کہ جو ادارے کی ویب سائیٹ(http://pesi.isc.gov.ir) پر موجود ہے ۔اس طرح ۱۷۳ افراد کی پہچان کی گئی ہے ،نتیجہ میں تقریبا اسلامی جمہوری ایران کے ممتاز سائنسدانوں کی مکمل فہرست تیار کی گئی ہے ،اس بنیاد پر ۱۷۳ افراد دنیا کے ایک فیصد ممتاز سائنسدانوں کے زمرے میں شامل ہوئے ہیں ۔
اسلامی جمہوری ایران کے علوم و فناوری کی اطلاع رسانی کے علاقائی مرکز ریسسٹ کے سربراہ نے کہا : حاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف شعبوں میں سائنسدانوں کی تقسیم یکساں نہیں ہے ۔اس طرح کہ ۵۰۔۸ فیصد دانشمند علوم پایہ کے شعبے سے متعلق ہیں ،علوم پایہ کے بعد طبی علوم میں دانشمندوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے کہ جو ان میں سے ۲۱۔۴ فیصد ہیں ۔برجستہ افراد سے حاصل شدہ سہم کے لحاظ سے علوم فنی اور مہندسی کے دانشمند تیسرے نمبر پر ہیں ،اور علمی میدان میں تاثیر گذار ملک کے ۲۱ فیصد دانشمند اس شعبے سے متعلق ہیں ۔ علوم زراعت کے شعبے میں ۶۔۴ فیصد ملک کے بین الاقوامی بر جستہ افراد ہیں ،اور ان برجستہ افراد میں صرف ۰۔۶ فیصد افراد علوم اجتماعی اور انسانی سے متعلق ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا : کل برتر برجستہ افراد میں سے ۵۰ فیصد جامع یونیورسٹیوں سے ہیں ، ۲۳ فیصد صنعتی یونیورسٹیوں سے ہیں ، ۲۱ فیصد طبی علوم کی یونیورسٹیوں سے ہیں ۳ فیصد تحقیقی اداروں سے ، اور ۳ فیصد اوپن یونیورسٹیوں اور پیام نور سے ہیں ۔جامع یونیورسٹیوں میں سے تہران ، شیراز ، تربیت مدرس ، اصفہان ، شہید بہشتی ، تبریز ، مازندران اور بو علی سینا یونیورسٹیوں میں ترتیب وار برجستہ افراد کی زیادہ تعداد ہے ۔ صنعتی یونیورسٹیوں میں ،دانشگاہ صنعتی شریف ، اصفہان ، امیر کبیر ، علم و صنعت ایران ، اور نوشیروانی بابل میں تاثیر گذار برجستہ افراد کی زیادہ تعداد کی پہچان کی گئی ہے ۔چار تحقیقی اداروں عالمی سطح کے ایک فیصد برجستہ افراد کی تعداد برابر ہے ۔ کہ جن اداروں کے نام یہ ہیں ؛ پژوہشگاہ شیمی و مھندسی شیمیء ایران ، موسسہء تحقیقاتیء جنگلھا و مراتع کشور ، پژوہشکدہءبیو تکنالوژیء کشاورزیء ایران اور پژوہشکدہء علوم و فناوریء رنگ ، ہر یونیورسٹی کے برجستہ پہچانے گئے افراد کی تعداد کو اس جدول میں لکھا جا رہا ہے:
|
یونیورسٹی کا نام |
سائنسدانوں کی تعداد |
|
دانشگاہ علوم پزشکیء تہران |
21 |
|
دانشگاہ تہران |
18 |
|
دانشگاہ صنعتی شریف |
12 |
|
دانشگاہ شیراز |
8 |
|
دانشگاہ تربیت مدرس ، دانشگاہ صنعتیء اصفہان |
7 |
|
دانشگاہ صنعتیء امیر کبیر ، شہید بھشتی ، اصفہان |
6 |
|
دانشگاہ علم و صنعت ایران ،دانشگاہ آزاد اسلامی |
5 |
|
دانشگاہ تبریز ، بو علی ھمدان ،دانشگاہ علوم پزشکی اصفہان ،دانشگاہ مازندران |
4 |
|
دانشگاہ یزد ، کاشان ، گیلان ، رازی کرمانشاہ و صنعتیء بابل |
3 |
|
دانشگاہ صنعتیء شیراز ، فردوسی مشہد ، خلیج فارس ، سمنان ، خوارزمی ،تحصیلات تکمیلیء فناوری پیشرفتہ ، یاسوج ، علوم پزشکی ،شیراز و تبریز |
2 |
|
اسلامی جمہوری ایران کے ممتاز سائنسدانوں کی تعداد دانشگاہ اور تحقیقاتی اداروں کے اعتبار سے |
|
دھقانی نے بیان کیا: دکھائے گئے جدول کے مطابق علوم پایہ کے شعبے میں تہران ، شیراز ، اور اصفہان کی یونیورسٹیوں میں برجستہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے ،۔ طبی علوم کے شعبے میں ، تہران ، اصفہان ، شیراز اور تبریز کی طبی علوم کی یونیورسٹیوں میں برجستہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ زراعتی علوم کے شعبے میں تہران یونیورسٹی میں سب سے زیادہ برجستہ افراد ہیں ۔ فنی اور مھندسی شعبے میں ،صنعتیء شریف ، تہران ، صنعتیء اصفہان ،امیر کبیر ،نوشیروانیء بابل ، صنعتیء شیراز اور علوم و صنعت ایران یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ بر جستہ افراد ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲