12 جولائی 2015 - 11:32
امریکہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟

ان جوہری مذاکرات کی ناکامی سے جہاں کچھ دیگر خراب نتائج نکلیں گے وہیں امریکہ کی کئی طرفہ جھکاو پر مبنی حکمت عملی اور اسکی اجباری ڈیپلومیسی کی بھی شکست ہو گی ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حال حاضر میں یونائٹیڈ اسٹیٹ کا اعتبار کافی حد تک اسلامی جمہوریہ کے ساتھ جوہری سمجھوتے سے وابستہ ہے ۔ مشترکہ اقدام کا جامع منصوبہ حقیقت میں اس راستے کا آغاز تھا کہ جو امریکیوں کے نقطہء نظر سے علاقے اور دنیا کو ثبات بخشنے کے لیے تھا ۔ اس کے لیے امریکہ کے سامنے دو موضوع ہیں ایک کا تعلق داخلی سیاست سے ہے اور دوسرے کا تعلق خارجی سیاست سے ،اور اس کو دونوں موضوعات میں اعتبار کی ضرورت ہے ،اسے اپنے علاقائی حلیفوں کو بھی باور کرانا ہے کہ وہ مشرق وسطی میں ان کے مفادات کا حامی ہے ،اور داخلی اعتبار کا مطلب بھی یہ ہے کہ ایک متفقہ موقف اختیار کیا جائے جس کے ذریعے برجستہ افراد اور دیگر مختلف اداروں کے حکام کے درمیان اس سلسلے میں ایک مؤثر اجماع حاصل  ہو سکے ۔

امریکا جو مفہوم ثبات کی  تعریف کرتا ہے کہ جس طرح " مشرق وسطی  میں امن و ثبات "( CHAPTER 24A—MIDDLE EAST PEACE AND STABILITY)1 کے زیر عنوان قانون میں مندرج ہے کہ جو امریکہ کے صدر کو یہ اختیار دیتی ہے  کہ  وہ کسی بھی حکومت کو کہ جس کی صراحت اس قانون میں ہوئی ہے امن و ثبات اور موجودہ نظم کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کی امداد دے سکتا ہے ۔ثبات کی یہ تعریف محدود ہے : نظم ایجاد کرنے امنیت و سلامتی بحال رکھنے اور پیشین گوئی کرنے میں کہ جو ایکدوسرے کے ساتھ مل کر ایک اور مفہوم کو وجود میں لاتے ہیں اور وہ ہے با ثبات حکومت کا مفہوم ، ۔حکومت کے اس ثبات کا مطلب آداب و ضوابط  اور تنظیموں اور الزام بخش ڈھانچے  کی ایک خاص اور محدود مدت تک  حفاظت و نگہداری ہے ۔اس کارآمد دستاویز کے مطابق یہ حکومتیں کہ جوامریکا سے مدد دریافت کرتی ہیں ان کو چاہیے کہ امریکی سیاست کے مطابق عمل کریں  ۔اور یہی چیز ۔ امریکا کے حلیفوں کا عدم استقلال اورمشروعیت کہ جو عمدتا خلیج فارس کے شیخ نشین ہیں ۔ باعث ہے بیگانوں کے اس علاقے میں اور خاص کر امریکہ کے باقی رہنے کا ۔

عرب دنیا کی تحریکیں اور ان کے بعد بحرین کے لوگوں کو  سعودی عرب کے ذریعے دبانا امریکہ کی ہری جھنڈی کی وجہ سے ممکن ہوا اور اس وقت ایک طرف یمن کے لوگ اور دوسری طرف جابر و ظالم حلیف حکومتوں کی حمایت نے عربوں کو بتا دیا ہے کہ یہ دوغلا رویہ ممکن ہے ان کے گریبان کو بھی پکڑ لے ۔در حقیقت مصر میں مبارک کی اور لیبیا میں قذافی کی حمایت منقطع کرنا کہ جو امریکہ کے حلیف تھے اور علاقے کی ایک سب سے زیادی جابر  اور نا جائز حکومتوں  کی حمایت کہ جن میں سر فہرست سعودی عرب ہے ، خطے میں ایک مثالی جمہوریت وجود میں لانے میں شکست ، عراق اور افغانستان میں شکست ،خطے میں داعش اور تمام دہشت گرد گروہوں کے ظہور اور علاقے میں جنگوں کے جاری رہنے نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ سچ مچ اس دوغلی سیاست سے امریکہ کو کیا حاصل ہوا ہے ؟ علاقے کی تبدیلیوں سے اب تک جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ مشرق وسطی کا دنیا کے ناامن ترین علاقے میں تبدیل ہو نا ہے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ نہ صرف یہ کہ خطے کو ثبات اور استحکام نہیں دے پایا ہے  بلکہ وہ ایک ایسا کھلاڑی ہے کہ جو خطے کے بارود کے ڈرموں میں آگ لگاتا ہے ۔

یہ حالات مشرق وسطی کے خطے کی جیو پولیٹیک اور جیو اسٹریٹیجیک اہمیت کے پیش نظر کہ جو دنیا کی توانائی کی شاہراہ ہے اور دنیا کے ملکوں کو ضروری ۶۵ فیصد توانائی اسی علاقے سے گذرتی ہے ،اسی عالمی نظم و ثبات میں اس کی پوزیشن ، مشترکہ اقتصادی اور امنیتی مفادات کے دائرے  میں نئے مضبوط کھلاڑیوں سے استفادے کی ضرورت ،وغیرہ جیسی چیزیں باعث بنی ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازعے کو حل کر نا چاہتا ہے ۔ در واقع خطے کے تازہ حالات کے پیش نظر ،امریکہ کے حلیف ملکوں کی بے ثباتی  اور عدم مقبولیت و مشروعیت کہ ممکن ہے عرب دنیا میں آزادی کی تحریک ۔کہ جو اس وقت ان کے دروازوں کے باہر کھڑی ہے ۔ امریکہ کے موجودہ حلیف ملکوں کی فہرست کی صورت کو بگاڑ کر رکھ دے اور اسی طرح علاقے میں  موجودہ تبدیلیوں کی پیچیدہ اور بدلتی ہوئی ماہیت اور ایران کے جوہری مسئلے کا حل ،علاقے کے دوسرے مسائل کے حل کا راستہ بن سکتا ہے کہ جو فریقین کے درمیان متنازعہ ہیں ۔

حقیقت امر یہ ہے کہ جوہری مذاکرات کی ناکامی ، امریکہ کے لیے اس کے سوا کوئی مطلب نہیں رکھتی کہ اس کےیورپی اور ایشیائی حلیف اور دیگر اقتصادی طاقتیں امریکہ کی پابندیوں کی سیاست سے الگ ہو سکتی ہیں ،امریکہ کے دنیا کو استحکام اور ثبات دینے والے ملک کے کردار پر انگلی اٹھ سکتی ہے اور پابندیوں کا اثر بھی بالکل ختم ہو سکتا ہے اس لیے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجینسی رپورٹ دے چکی ہے کہ ایران نے اس کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور اس کا جوہری پروگرام بالکل پر امن مقاصد کے لیے ہے ،یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے لیے اس سمجھوتے کا ہونا بہت ضروری ہے ۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ جوہری پروگرام کو لے کر دوسرا کوئی ملک بھی ایسی حالت سے دو چار نہیں ہے ۔

لایجہ کرک ۔ مننڈز [Kirk and Menendez Lead 16 Senators to Introduce Bipartisan Legislation to Stop Iran’s Nuclear Threat]2 پر ایک نظر  کہ جس میں مذاکرات کے دوران پابندیوں کے جاری رہنے بلکہ نئی پابندیاں لگانے کی اجازت دی گئی تھی ،اگر چہ اوباما نے اس کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن اس سے اس ملک کی مقننہ اور مجریہ میں اختلاف کا پتہ چلتا ہے ۔اگر چہ ان سب کے باوجود علاقے میں امریکہ کے حلیفوں کے لیے مذاکرات اور ایسا سمجھوتہ کہ جس کی امریکہ ضمانت دے ،کھوئے ہوئے اعتبار کو حاصل کرنے کا ایک سبب ہے ۔

ان مذاکرات کی ناکامی سے جہاں کچھ دیگر خراب نتائج نکلیں گے وہیں امریکہ کی کئی طرفہ جھکاو پر مبنی حکمت عملی اور اسکی اجباری ڈیپلومیسی کی بھی شکست ہو گی ۔ دوسری طرف ایسے سمجھوتے تک پہنچ جانا کہ جو ایرانیوں اور مغربیوں کی پریشانی کو دور کرنے کی ضمانت ہو ،ایسے کھیل کی صورت میں کہ جس میں دونوں کی جیت ہو ،ڈیپلومیسی کو زندہ رکھنے اور ایران کی مشارکت سے علاقے کو بے ثبات کرنے والی مشکلوں اور مسائل کو حل کرنے اور صلح تک پہنچنے کا راستہ ہو ۔ البتہ  یہ شرائط ایسی حالت میں ہیں کہ بعض اندازے اس سمجھوتے سے  ایران کے زیادہ مستفید ہونے کی حکایت کر رہے ہیں کہ جس کی بنیاد پر اگر بینکی نقل و انتقال کی پابندیاں اٹھ جاتی ہیں تو ایران کو آیندہ ۱۵ سال میں تیل کے بدلے میں ۴۲۰ ارب ڈالر کی آمدنی ہو سکتی ہے ۔3

___

حوالہ جات:

1.      http://docs.uscode.justia.com/1997/title22/USCODE-1997-title22/pdf/USCODE-1997-title22-chap24A-sec1962.pdf

2.      http://www.menendez.senate.gov/news-and-events/press/kirk-and-menendez-lead-16-senators-to-introduce-bipartisan-legislation-to-stop-irans-nuclear-threat

3.      https://foreignpolicy.com/2015/04/16/irans-300-billion-shakedown-sanctions-nuclear-deal

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲