اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کویت کے بزرگ عالم دین اورمراجع عظام کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر موسوی المہری قلبی بیماری کی بنا پر ۶۶ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
مرحوم مغفور جو کویت کے علاقے العمریہ میں واقع مسجد علی بن ابی طالب (ع) میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے اس ملک کے فعال عالم دین اور شیعوں کے حقوق کے محافظ تھے۔
آپ ۱۳۶۷ قمری کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید عباس مہری نجف اشرف کے بزرگ علمائے دین اور مراجع میں سے تھے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم نجف اشرف میں ایرانیوں کے مدرسے میں حاصل کی جبکہ دینی تعلیم حاصل کرنے لیے نوجوانی کے آغاز میں ہی حوزہ علمیہ میں قدم رکھا۔
آپ نے حوزہ علمیہ نجف اشرف میں اعلی سطح کے علوم، آیت اللہ شیخ مجتبیٰ لنکرانی، آیت اللہ شیخ صدرا بادکوبی، آیت اللہ سید شیخ حسین الراستی الکاشانی، آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئی اور آیت اللہ العظمیٰ سید محمد باقر صدر کے پاس حاصل کئے۔
آیت اللہ سید محمد باقر موسوی مہری کا شمار آیت اللہ سید محمود ہاشمی شاہرودی کی طرح شہید صدر کے خاص شاگردوں میں سے ہوتا تھا۔
آپ نجف اشرف میں امام خمینی(رہ) کے خاص طور پر معتقد تھے اور ہمیشہ ایران کے اسلامی انقلاب کے حمایت کرتے تھے۔
آپ نے اپنی بابرکت زندگی میں حوزہ علمیہ نجف، قم اور کویت میں بہت سارے شاگرد تربیت کئے۔ نجف اشرف سے نکلنے کے بعد آپ نے کچھ عرصہ قم میں گزارا اس کے بعد کویت منتقل ہو گئے۔
کویت میں آپ ’’المہری‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے کویت میں مقیم مدت کے دوران آپ اس ملک کے شیعوں کی پناہ گاہ تھے اور کویت اور ایران کے حکومتی عہدہ داروں کے نزدیک مورد اعتماد شخص تھے۔
مرحوم مغفور ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور ہمدلی کے داعی تھے اور تقریب مذاہب اسلامی کے میدان میں کافی حد تک فعال تھے۔
فقہی مسائل اور مناسک حج کے موضوعات پر آپ کی متعدد تالیفات موجود ہیں۔










