اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے تہران میں اسلامی ممالک کے سفیروں اور نمائندوں کو افطاری کی دعوت دی گئی۔
افطاری کی اس ضیافت میں چند سفیروں نے عالم اسلام میں موجودہ حالات کے بارے میں اظہار خیال کیا جبکہ اس پروگرام کے آغاز پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے خطاب کیا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے اسلامی ممالک کے سفراء کو عالم اسلام کے کشیدہ حالات کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کے حالات کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں جو براہ راست کردار پیش کر رہے ہیں وہ تکفیری ٹولے ہیں تکفیری زمانے کے خوارج ہیں جو عالمی استکبار اور صیہونی ہاتھوں کے پروردہ ہیں۔ جنہوں نے اسلامی ممالک کی تھوڑی بہت بچی عزت و آبرو کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔
انہوں نے صیہونی ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام پروپیگنڈوں کا مقصد اسلامی مزاحمت کو قبائیلی اور قومی جھگڑوں میں مشغول کر دینا اور اسے اپنے اصلی مقصد آزادی فلسطین سے دور کردینا ہے۔
انہوں نے تکفیری جرائم کے مقابلے میں اسلامی ممالک کی خاموشی کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا: کیوں اسلامی ممالک، ان کے علما فقہا اور پارلیمانی نمائندے ان جرائم کے مقابلے میں خاموش ہیں اور کوئی ٹھوس موقف اختیار نہیں کر رہے ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سربراہ نے مسلمانوں کے دفاع اور ان کے درمیان اتحاد پیدا کرنے میں اسمبلی کے کردارکو بیان کرتے ہوئے کہا: اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی مذہبی گروہوں اور حکومتوں کے درمیان مذاکرات کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یمن کو ویران کرنے اور بین الاقوامی انسان دوستانہ قوامین کو پامال کرنے کا مقصد علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کے قبضے کو استحکام پہنچانا ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے اقوام متحدہ اور عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بحران کے خاتمہ کے لیے ٹھوس اقدام کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲