28 جون 2015 - 19:25
میرواعظ کشمیر: شرپسند عناصر مرکزیت کی اہمیت کو زک پہنچانے کے درپے ہیں

حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین نے کہا کہ مرکزی جامع مسجد نہ صرف یہاں کے مسلمانوں کا سب سے بڑا دینی مرکز ہے بلکہ اس مرکز کے منبر و محراب سے یہاں کے عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کا فریضہ ہر دور میں انجام دیا جاتا رہا ہے اور یہی وجہ سے کہ اس کی مرکزیت کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی ہر دور میں کی جاتی رہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق، جنہیں ریاستی انتظامیہ نے گذشتہ شام ہی رہائش گاہ میں نظر بند کر کے رمضان المبارک کے مقدس ایام میں ان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے، نظر بندی کے دوران کشمیریوں کے سب سے بڑے دینی مرکز مرکزی جامع مسجد کے تقدس کی پامالی اور اس کی مرکزیت اور اہمت کو زک پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ریاستی انتظامیہ پر واضح کردیا ہے کہ اس قسم کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، میرواعظ کشمیر نے کہا کہ مرکزی جامع مسجد نہ صرف یہاں کے مسلمانوں کا سب سے بڑا دینی مرکز ہے بلکہ اس مرکز کے منبر و محراب سے یہاں کے عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کا فریضہ ہر دور میں انجام دیا جاتا رہا ہے اور یہی وجہ سے کہ اس کی مرکزیت کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی ہر دور میں کی جاتی رہی ہے اور آج بھی یہاں کے حکمران اور چند شرپسند عناصر یہاں کے عوام کے حق و صداقت کے ترجمان اس مرکز کی اہمیت کو زک پہنچانے کے درپے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا، میرواعظ عمر فاروق نے نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد میں پیش آئے المناک سانحہ اور سرکاری فورسز کی جانب سے نمازیوں کے خلاف تشدد اور ٹیر گیس شلنگ کے خلاف انجمن اوقاف جامع کی جانب سے سرینگر ضلع میں ہڑتال کی کال جس کی حمایت مزاحمتی قیادت اور متعدد کاروباری انجمنوں نے کی پر سرینگر کے حریت پسند عوام کے بے مثال ردعمل کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام کا جذباتی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہے مگر اپنے مذہبی مقامات کے تقدس کی پامالی کو کسی بھی طور برداشت نہیں کرسکتے۔

.......

/169