26 جون 2015 - 12:14
محمد علی الحوثی: سعودی عرب میں اگر جرئت ہے تو خود ایران پر حملہ کرے+ رپورٹ

انہوں نے کہا: اگر سعودی عرب کا یمن پر حملہ کرنے کا جواز ایران کے ساتھ تعلقات رکھنا ہے تو کیوں سعودی عرب ان تمام ملکوں پر حملہ نہیں کرتا جو کھلے عام ایران سے تعلقات رکھتے ہیں؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بی بی سی کے رپورٹر جرمن بوئن نے صنعا پہنچ کر یمن پر ہونے والی سعودی جارحیت کی ایک رپورٹ تیار کی ہے جو انتہائی درد ناک ہے۔
اس گزارش کا بعض حصہ جو بی بی سی کے فارسی اور عربی چینل سے نشر ہوا ہے اس میں اس ملک کے ہسپتالوں کی انتہائی خستہ حالت، ویران کئے گئے شہروں اور زخمی اور مظلوم لوگوں کی صورتحال کو پیش کیا گیا ہے۔



بی بی سی کے رپورٹر نے اپنی اس رپورٹ میں یمن کی انقلابی تحریک کی اعلی کونسل کی سربراہ ممد علی الحوثی سے گفتگو بھی کی ہے۔
رپورٹر نے یمن کی صدارتی کوٹھی میں محمد علی الحوثی جو اس وقت اس ملک کے صدارتی فرائض انجام دے رہے ہیں کے ساتھ گفتگو میں پوچھا: سعودی عرب کا کہنا ہے کہ آپ کو ایران گائڈ کر رہا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ 


الحوثی: بالکل نہیں۔ سعودی عرب جانتا ہے کہ یمن ایک مستقل ملک ہے ملت یمن مستقل قوم ہے۔ انہوں نے ہم پر یہ الزامات لگائے ہیں تاکہ دوسرے ملکوں کو اپنے ساتھ جوڑیں اور یمن کے لوگوں پر جاری اس جارحیت کی توجیہ کر سکیں۔



بوئن نے دوبارہ پوچھا: آپ ایران سے تعلقات رکھتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ جیسا کہ سعودی عرب کا کہا کہ آپ نے ایران سے اسلحہ حاصل کیا ہے اور ایران نے آپ کو ٹریننگ دی ہے کیا یہ بات صحیح نہیں ہے۔
الحوثی: یہ بات حقیقت نہیں رکھتی۔ ہمارے پاس جو اسلحہ ہے یہ خود ہمارا ہے ہماری اپنی فوج ہے۔ یمن کے انقلابیوں پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے ایران میں ٹریننگ حاصل کی ہے صرف دنیا میں عوامی افکار کو منحرف کرنے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا: اگر سعودی عرب کا یمن پر حملہ کرنے کا جواز ایران کے ساتھ تعلقات رکھنا ہے تو کیوں سعودی عرب ان تمام ملکوں پر حملہ نہیں کرتا جو کھلے عام ایران سے تعلقات رکھتے ہیں؟



انہوں نے مزید کہا: اگر سعودی عرب کو ایران سے کوئی مشکل ہے تو خود ایران جائے اگر ایران سے اسے خطرہ ہے تو خود ایران پر حملہ کرے نہ کہ یمن پر۔ مگر سعودی عرب نہیں جانتا ہے ایران کہاں واقع ہے کیا وہ ایران کی سرحدوں کو نہیں جانتا اگر اس کے پاس جرئت ہے تو وہ یمن کے بجائے خود ایران پر حملہ کرے!



محمد علی الحوثی نے آل سعود کے یمن پر حملہ کرنے کی اصلی وجہ صیہونی ریاست کا اشارہ قرار دیا اور کہا: اسرائیل نے امریکہ سے کہا کہ وہ یمن کے انقلاب سے خوفناک ہے نتیجہ میں امریکہ نے سعودی عرب کو فورا حملہ کرنے کا دستور دے دیا۔
یمن میں تباہی کی رپورٹ
جرمن بوئن اس کے بعد بے گھر لوگوں کی رپورٹنگ کرتے کہتے ہیں: ’’میں نے صنعا کے گیارہ اسکولوں کو نزدیک سے دیکھا کہ جن میں بے گھر لوگ پناہ لئے ہوئے تھے۔ میں نے ایک ۳۰ سالہ مرد کو اس کی بیوی اور ایک سالہ بچے کے ساتھ دیکھا جنہوں نے مجھ سے کہا: جب ہمارے اور ہمارے پڑوسیوں کے گھر بمباری میں نابود ہو گئے اور ہمارے تمام پڑوسی گھروں میں دب کر مر گئے تو ہم اپنے شہر سے فرار کر کے یہاں پناہ گزیں ہوئے ہیں ہمارے گھر کوئی فوجی اڈہ نہیں تھے لیکن سعودی عرب نے ہمارے شہر کو ایسے ویران کر دیا ہے جیسے یہاں صدیوں سے کوئی بستا ہی نہ ہو۔ 



دردناک تصاویر
بی بی سی نے اس رپورٹ میں صنعا کے بعض ہسپتالوں کی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں ایسے زخمی جن کے بدن کے بعض اعضا کٹے ہوئے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ذرہ برابر بھی سہولیات موجود نہیں ہیں۔
یہ ایسے بچے کی تصویر ہے جس کا پورا بدن آگ سے جل چکا ہے اور سعودی عرب کے زہریلے بمبوں نے اس دو سالہ بچے کے بدن کی کھال کو جلا کر ختم کر دیا ہے اور بچہ جلن اور درد کی وجہ سے زار و قطار رو رہا ہے۔



بی بی سی کے رپورٹر نے واضح کیا: اس جنگ میں مارے جانے والے اکثر افراد عوام ہیں جن کا فوج یا انصار اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔



کیا سعودی عرب اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے؟
بی بی سی کی اس رپورٹ کا اہم ترین حصہ یہ آخری جملہ ہے جو اس نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب کے دعوے کے برخلاف انصار اللہ ایران سے دستور حاصل نہیں کر رہا ہے اور سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے محض ایک توہم پر یمن کی بے سہارا عوام کو خاک و خون میں لت پت کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ایک بار پھر یمن پر بمباری کرنے میں ہوش کے ناخن لیں۔ وہ حوثیوں کے ٹھکانوں کو نہ صرف نابود نہیں کر پائے بلکہ اب تک ان کے قریب بھی نہیں جا سکے ہیں۔ یہ سعودی عرب کی کھلی شکست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲