اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ طے تھا کہ اتوار کے دن یمن کے تمام سیاسی گروہوں کی ایک میٹینگ جنیوا میں یمن کے بحران کے خاتمے کے لیےمنعقد ہو گی ،لیکن یہ نشست اس ہفتے پیر کے دن پر موکول ہو گئی ، اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ ایک گروہ کے نہ پہنچنے کی وجہ سے یمنی گروہوں کے مذاکرات اتوار کے بجائے پیر پر موکول کیے گئے ہیں ۔ جب کہ پہلے یہ طے پایا تھا کہ اسماعیل ولد الشیخ جو یمن کے امور میں اقوام متحدہ کا خصوصی ایلچی ہیں وہ اتوار کے دن یمن کے گروہوں کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کریں گے ۔
توقع کی جا رہی ہے کہ گفتگو کا یہ سلسلہ تین دن تک چلے گا اور عبد ربہ منصور ھادی دونوں متحارب گروہوں کے ۱۴ نمایندوں کے ساتھ شریک ہو گا ۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا جنیوا کی کانفرنس یمن کے بحران کے بارے میں ۱۴ جون کو جنیوا میں منعقد ہو گی ۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ تحریک انصار اللہ نے بغیر کسی پیشگی شرط کے اس نشست میں شریک ہونے کا اعلان کیا تھا ۔یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن ، ضیف اللہ الشامی نے کہا تھا : یہ گروہ جنیوا کے مذاکرات میں شرکت کرے گا اور اس کی فوجیں یمنی یمنی کی گفتگو کروانے میں اقوام متحدہ کی ہر کوشش کی حمایت کریں گی ۔
یہ نشست ایسی حالت میں منعقد ہونے جا رہی ہے کہ ہر منصف اور غیر جانبدار تجزیہ نگار کی نظر میں ریاض اپنے کسی بھی مقصد تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے ۔اگر سعودی عرب کے حملے اور یمن میں اس کے ظاہری اور پوشیدہ مقاصد پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ اس جنگ کا سعودی عرب کو بالکل بھی فائدہ نہیں ہوا ہے یہاں تک کہ یہ حکومت بغیر کوئی نتیجہ حاصل کیے انصار اللہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہو گئی ہے ۔سعودی عرب نے شرط رکھی تھی کہ بات چیت اس وقت ہوگی جب انصار اللہ اپنے تحت تصرف تمام علاقوں کو چھوڑ کر ہتھیار ڈال دے ۔
یہ جنگ کہ جس کو ڈھائی مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں اور جس کا مقصد یمن میں مشروعیت کو واپس لانا تھا اس سے آل سعود کے خلاف یمن کی ملت اور علاقے کی دیگر ملتوں کی نفرت اور انتقام جوئی کے سوا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے ۔اس جنگ نے ان لوگوں کو بھی انصار اللہ کے ساتھ کر دیا ہے کہ جو پہلے اس کے سلسلے میں مشکوک تھے ۔
سعودی عرب کی کوشش تھی کہ اس جنگ کے ذریعے انصار اللہ کے جنگجووں اور اس ملک کی ملت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے اور اس ملک پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرے یہ ایسی امید تھی کہ جس تک پہنچنے میں وہ ناکام رہی ہے ۔ریاض یمن کے بھگوڑے صدر عبد ربہ منصور ھادی کو یمن واپس لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔
ریاض کا ایک اصلی مقصد انصار اللہ کے جنگجووں کو ان کے کنٹرول کے تحت کے علاقوں سے باہر کرنا تھا لیکن یہ بھی نہیں ہو سکا بلکہ انصار اللہ کا پورے یمن پر مکمل قبضہ ہو گیا ۔
اس جنگ کے نتیجے میں حوثی یمن کے تمام حکومتی اداروں پر مسلط ہو گئے ہیں اور حساس راستے باب المندب کا کنٹرول بھی اس تحریک کے ہاتھ میں آ گیا ہے ۔
اس جنگ میں پہلی بار سعودی عرب کی سرحدوں کو سخت خطرہ لاحق ہوا ہے اور یمن کے قبایل اور فوج نے کئی بار ان پر حملہ کیا ہے ۔اور اس حکومت کے متعدد فوجیوں کو قتل کیا ہے اور ریاض کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے ۔
اس وقت تحریک انصار اللہ یمن کے سیاسی گروہوں کی نشست میں بھری ہوئی مٹھی لے کر شرکت کر رہی ہے اور حقیقت میں اس دور کے مذاکرات میں اس کو بر تری حاصل ہے اور وہ ملت یمن کے اصلی مطالبے کو منوا سکتی ہے ۔سعودی عرب کو چاہیے کہ اب انصار اللہ کو تمام سیاسی مسائل اور معاملات میں ایک فریق تسلیم کرے کہ جس سے پہلے وہ کتراتی تھی ۔
اس بنا پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے پاس ان دو باتوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں یا سیاسی بات چیت میں انصار اللہ کے سامنے جھکے کہ ایسا ہو چکا ہے اس لیے کہ اس نے عبد ربہ منصور ھادی کو جنیوا کے مذاکرات میں شرکت کرنے کی اور انصار اللہ کے ساتھ گفتگو کرنے کی ہری جھنڈی دکھا دی ہے ۔ اگر چہ یمن کے ان حکام نے کہ جو سعودیہ کے احکام کی پیروی کرتے ہیں انہوں نے اس دور کے مذاکرات کو مشورتی نوعیت کے بتایا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ارادہ انصار اللہ سے حکومت کو چھیننے کا ہے اگر چہ سیاسی تجزیہ نگاروں کی نظر میں اس طرح کی باتیں کرنا آسان ہے لیکن عملا ایسا کرنا بہت مشکل ہے ،اس لیے کہ اگر یہ ممکن ہوتا تو وہ مذاکرات کے لیے بالکل بھی تیار نہ ہوتے ۔
دوسری چیز یہ ہے کہ سعودی عرب جنگ کو جاری رکھے اور یمن میں تباہی کا بازار گرم رکھے کہ اس صورت میں سعودی عرب کی قومی سلامتی کو زبر دست خطرہ لاحق ہو گا اور یہ چیز مستقبل میں سعودی عرب کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب دو میں سے کس چیز کا انتخاب کرتا ہے ،آیا وہ یمن کے سیاسی ڈھانچے میں انصار اللہ کی اہمیت کو تسلیم کر کے ملت یمن کے مطالبات کے سامنے جھکتا ہے اور جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتا ہے ،یا یہ کہ وہ جنگ اور تباہی کو جاری رکھتا ہے کہ اس صور ت میں اسے نتائج کو بگھتنے کے لیے تیار رہنا ہو گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲