اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بلوچستان میں موجود مختلف قبیلوں کے کچھ تعداد میں افراد کہ جن کا لقب سرمچاران ( مجاہدان فدائی خلق بلوچ ) ہے کہ جو زیادہ تر اس علاقے میں دہشت گرد گروہوں جیسے القاعدہ ،طالبان اور باقی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے اس وقت مالی کمزوری اور اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے کی بنا پر اپنے دہشت گردانہ مقاصد کی تکمیل کا خواب دیکھتے ہوئے اور حالات کی بہتری کے لیے اس ریاست میں موجود دہشت گرد گروہ داعش کی بیعت کر رہے ہیں اور ان کی تنظیم میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔
پاکستان کے صوبہ "بلوچستان "کے با خبر مقامی ذرائع نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ دولت اسلامی عراق و شامات (داعش) سے وابستہ افراد صوبہء بلوچستان میں داخل ہو کر پاکستان میں دہشت گردانہ اقدامات انجام دینے کے لیے رکنیت کی مہم چلا رہے ہیں اور خود کو مسلح کر رہے ہیں ۔
داعش کا صوبہء بلوچستان میں رکنیت کی مہم چلانا خود کو مسلح کرنا اور فوجی سازو سامان اور گاڑیاں خریدنا ۔
گوھرام رمضان نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا : دہشت گرد تکفیری گروہ داعش سے وابستہ افراد بھاری تعداد میں فوجی سازو سامان ،ہتھیار اور صوبہء بلوچستان میں گاڑیاں خرید رہے ہیں ۔
اس بلوچ مقامی ذرائع نے یہ بھی بتایا؛ پاکستان کے بلوچستان میں موجود مختلف قبیلوں کے کچھ تعداد میں افراد کہ جن کا لقب سرمچاران ( مجاہدان فدائی خلق بلوچ ) ہے کہ جو زیادہ تر اس علاقے میں دہشت گرد گروہوں جیسے القاعدہ ،طالبان اور باقی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے اس وقت مالی کمزوری اور اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے کی بنا پر اپنے دہشت گردانہ مقاصد کی تکمیل کا خواب دیکھتے ہوئے اور حالات کی بہتری کے لیے اس ریاست میں موجود دہشت گرد گروہ داعش کی بیعت کر رہے ہیں اور ان کی تنظیم میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔
اسی طرح ،مراد بکش پیری کہ جو اس ریاست میں ایک اور مقامی ذرائع ہے نے اس خبر کی تائیید کرتے ہوئے تاکید کی ہے : اگر چہ پاکستان کے سرکاری حکام اس ملک میں دہشت گرد گروہ داعش کی موجودگی کا انکار کر رہے ہیں لیکن یہ موضوع اس ملک کے ذرائع میں ہمیشہ خبروں میں رہا ہے اور داعش کی تبلیغ میں پوسٹر چھاپنے ،دیواروں پر لکھنے کے بارے میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں رپورٹیں منتشر ہوتی رہی ہیں ۔
اسی سلسلے میں صاح زادہ ابوا لخیر محمد زبیر نے جو جمعیت علمائے پاکستان پارٹی کے سر براہ ہیں ،اور رحمن ملک کہ جو سابقہ وزیر داخلہ ہیں ، عبد الملک بلوچ جو پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیروں کی قابینہ کے رئیس ہیں جو ریاست میں سب سے اعلی رتبہ حاکم ہیں ،طاہر القادری جو پاکستان کی عوامی تحریک پارٹی کے سر براہ ہیں اور امیر پور دستان نے کہ جو جمہوری اسلامی ایران کی زمینی فوج کا کمانڈر ہیں ا ن سب نے اپنے الگ الگ بیانات میں ،پاکستان کے داعش کے نفوذ اور بعض دہشت گرد اور نیم فوجی گروہوں کی جانب سے اس دہشت گرد گروہ کی حمایت کی اور ملک میں اور ہمسایہ ممالک میں بد امنی پھیلانے کی کوشش کے بارے میں خبر دی تھی ۔
بلوچستان میں ضلع چاغی ، خاران اور پنجگور داعش کے ٹھکانے ہیں
گوھرام رمضان ، نے ریاست بلوچستان کے مغرب میں ضلع چاغی ،خاران اور پنجگور میں داعش کی موجودگی اور ان کے جماوڑے کے بارے میں نیوزنور کے ذرائ کو خبر دیتے ہوئے کہا ہے : کویٹہ میں ایران کی کونسلگری کے ساتھ نواب خاران کے تعلقات نے ایک طرف سے اور دوسری طرف سے عوام کی مخالفت نے دہشت گرد گروہوں اور داعش سے وابستہ افراد کی کار کردگی کو اس علاقے میں سخت مشکل میں ڈال رکھا ہے ۔
ضلع چاغی کہ جو ایران اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک ہے افغانستان سے ہمسایہ ملکوں اور خلیج فارس کے ملکوں تک منشیات کا مواد لے جانے کا ایک اصلی راستہ ہے ۔
پنجگور بھی شہر سراوان سے تقریبا ۲۰۰ کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،اور ایران کے سب سے نزدیک ایسا شہر ہے کہ جس میں ہوائی اڈہ ہے اسی بنا پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کی سیکیوریٹی فوجوں اور فوج کے دستوں کو اس علاقے پر کڑی نظر رکھنا چاہیے اور ہر طرح کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنا چاہیے ۔
.......
/169