17 جون 2015 - 12:18
دنیا کی بڑی تیل کمپنیاں، ایران میں پهر سے واپس آنے کے لئے شدت سے منتظر

انہوں نے مزيد كہا ہے كه پابنديوں كی منسوخي كي صورت ميں، ايران كے تيل اور گيس كے شعبوں سميت مختلف شعبوں ميں ٹيکنالوجي اور سرمايہ كاري كے مواقع فراہم كئے جائیں گے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بین الاقوامی تیل کمپنیوں کے سنئیر حکام اور ماہرین نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کے مثبت نتائج اور ایران کے خلاف پابندیاں ختم ہوجانے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی بڑی تیل کمپنیاں اس ملک میں پهر سے آنے کے لئے تیار ہیں.

ان خيالات كا اظہار لندن ميں منعقد ہونے والي 9ويں بين الاقوامي تيل كمپنيوں كي كانفرنس ميں شريك بعض شخصيات اور ماہرين نے ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹرویو ديتے ہوئے كيا.
'بي پي' پيٹروليم كمپني كے سابق ماہر اور 'آر پي ايس' كمپني كے موجودہ منيجينگ ڈائريكٹر 'سائمن تلنگ' نے كہا ہے كہ ايران اور گروپ 1+5 ميں جاري مذاكرات ميں پيشرفت اور اتفاق كي صورت ميں بڑي تيل كمپنياں اور پيٹروليم مصنوعات كے عالمي ادارے ايران سے روابط اور باہمي تعلقات پهر سے استوار كرنا چاہتے ہيں.
انہوں نے مزيد كہا ہے كه پابنديوں كی منسوخي كي صورت ميں، ايران كے تيل اور گيس كے شعبوں سميت مختلف شعبوں ميں ٹيکنالوجي اور سرمايہ كاري كے مواقع فراہم كئے جائیں گے.
ہنگري كي توانائي ريگوليٹري ايجنسي كے ڈائريكٹر برائے بين الاقوامي امور ڈاكٹر 'آتيلا نيكوس' كا بھي كہنا ہے كہ تهران اور گروپ 1+5 كے درميان جاري مذاكرات كو معاہدے كي حتمی شكل دينے كے لئے پابنديوں كي ايك فهرست تيار كی گئی ہے جس ميں سب سے پهلے تيل اور گيس كے شعبوں ميں ايران كے خلاف عالمي پابندياں ہٹا ديا جائے گا.
انہوں نے مزيد كہا كہ امريكہ اور يورپ كي بڑي تيل كمپنيوں كي ايران ميں سرمايہ كاري سے اسے ملك كے تيل اور گيس كي پيداوار كو مضبوط اور اس كي ترقي ميں اضافہ كرنے كے لئے مدد ملے گي.
انہوں نے كہا ہے كہ ميرے خيال كے مطابق اگر ايران روزانہ كے حساب سے پانچ ملين بيرل تيل كي پيداوار چاہتا ہے تو اس كو كم سے كم ايك سو ارب ڈالر كي سرمايہ كاري كي ضرورت ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲