16 جون 2015 - 07:43
آیت اللہ العظمی جوادی آملی کا ہیمبرگ کانفرنس کے نام پیغام

سب سے زیادہ اہم پیغام جو اسلام نے خدا کی جانب سے انسانی سماج کے لیے منتقل کیا ہے ،اس کا تعلق سب سے اچھے اور احسن نظام سے ہے جس کے بارے میں فرمایا ہے ؛" الَّذي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلَقَهُ " ، ،اصل ہستی بھی خدا کی عطا ہے ،کہ ارشاد ہوا ہے:" اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ " اور سب سے اچھا اور احسن نظام بھی خدا نے عطا کیا ہے ،کہ ارشاد ہوا ہے:" أَحْسَنَ كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلَقَهُ " ، وہی نظام سب سے اچھا اور احسن ہے کہ جس میں صلح کی حکمرانی ،امن کا تحفظ ، اور امانتداری کا احترام ہو تا ہو ۔ جنگ طلب معاشرہ اجڑا ہوا معاشرہ کہلاتا ہے ،وہ سماج جس میں امن اور امانتداری نہ ہو وہ پاش پاش ہو جاتا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  عالم اسلام کے جلیل القدر مرجع تقلید اور حوزہ علمیہ قم کے ممتاز استاد حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے جرمنی کے شہر ہیمبرگ[Hamburg] میں 13 جون2015 کو " اسلام کی نظر میں عالمی  امن و سلامتی " [Necessity of Global Peace and Security in View of Islam] کے عنوان کے تحت ہوئی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں واضح کیا : جو قوم کسی کا راستہ بند نہیں کرتی اور غلط راستے پر نہیں چلتی ایسی ملت صلح کی نعمت سے بہرہ مند ہوتی ہے اور اسی کے نصیب میں امن و سلامتی کی نعمت لکھی جاتی ہے ۔دین نے ہمیں انہی امور کی دعوت دی ہے ،اگر اس نے ہم سے اچھا  اور احسن نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تو اچھا اور احسن نظام وہی ہے کہ جس میں خونریزی نہ ہو بلکہ امن و سلامتی ہو ۔  

اس پیغام کا مکمل ترجمہ :

بسم اللّه الرحمن الرحيم

«الحمد لله ربّ العالمين و صلّي الله علي جميع الأنبياء و المرسلين و الائمه الهداة المهديين سيّما خاتم الانبياء و خاتم الاوصياء عليهم آلاف و تحية والثناء بهم نتولّي و من أعدائهم نتبرّء الي الله».

میں آپ بزرگوں اور حاضرین محترم کو خوش آمدید عرض کرتا ہوں اور اس عظیم اجتماع کے منعقد کرنے والوں کے حق کی قدر دانی بجا لاتا ہو ں اور جن حضرات نے گفتگو یا مقالے پیش کرنے کی کوشش کی ہے خدا وند متعال سے ان کے لیے توفیق طلب کرتا ہوں ۔

بحث کا موضوع "اسلام کی نظر میں عالمی  امن و سلامتی "ہے ۔ آپ حضرات جانتے ہیں کہ اسلام انسانی سماج کے سامنے خدا کا پیغام پیش کرتاہے۔ سب سے زیادہ اہم پیغام جو اسلام نے خدا کی جانب سے انسانی سماج کے لیے منتقل کیا ہے ،اس کا تعلق سب سے اچھے اور احسن نظام سے ہے جس کے بارے میں فرمایا ہے ؛" الَّذي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلَقَهُ " ، ،اصل ہستی بھی خدا کی عطا ہے ،کہ ارشاد ہوا ہے:" اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ " اور سب سے اچھا اور احسن نظام بھی خدا نے عطا کیا ہے ،کہ ارشاد ہوا ہے:" أَحْسَنَ كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلَقَهُ " ، وہی نظام سب سے اچھا اور احسن ہے کہ جس میں صلح کی حکمرانی ،امن کا تحفظ ، اور امانتداری کا احترام ہو تا ہو ۔ جنگ طلب معاشرہ اجڑا ہوا معاشرہ کہلاتا ہے ،وہ سماج جس میں امن اور امانتداری نہ ہو وہ پاش پاش ہو جاتا ہے ۔

جب خدا کی ذات اقدس نے کعبہ کی برکت سے جو خاص نعمت سر زمین مکہ کو دی اور اس کا بیان کیا تو فرمایا :" فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هذَا الْبَيْتِ  الَّذي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَ آمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ  " خدا نے کعبہ کی برکت سے جو مسلمانوں کا قبلہ اور مطاف اور سر زمین وحی ہے ،صلح و امنیت کو برقرار کیا ہے ؛" آمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ  " وہ قوم جو کسی کا راستہ بند نہیں کرتی اور غلط راستے پر نہیں چلتی ایسی ملت صلح کی نعمت سے بہرہ مند ہوتی ہے اور اسے امن کی نعمت عطا کی جاتی ہے ۔ دین نے ہمیں انہی امور کی دعوت دی ہے ۔اگر اس نے ہم سے اچھے اور احسن نظام کا مطالبہ کیا ہے تو وہی نظام سب سے اچھا اور احسن ہے کہ جس میں خونریزی نہ ہو بلکہ امن و سلامتی ہو ۔

قرآن کریم نے باتقوی اور نافرمان افراد کا تقابل کیا ہے اور فرمایا ہے : بعض اہل طغیان ہیں اور بعض اہل تقوی ہیں ؛با تقوی لوگ صلح پسند اور امن کے طالب ہوتے ہیں جب کہ طغیان گر افراد ؛" إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها وَ جَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِها أَذِلَّةً  " طغیان گر اور جارح  سیاستمداروں اور حاکموں کی خاصیت یہی ہے کہ وہ دست درازی کی کوشش میں رہتے ہیں ،جب وہ دست درازی کرتے ہیں تو اس سرزمین کو ویرانے میں تبدیل کر دیتے ہیں ،لیکن با تقوی افراد نہ دست درازی کرتے ہیں اور نہ جب کسی سر زمین میں داخل ہوتے ہیں تو ویران گری کی اجازت دیتے ہیں ۔

تکفیری ،سلفی اور داعشی کا کام اسلام کا کام نہیں ہے وہ کام جوخطے کی امن و سلامتی کے خلاف  ہے وہ اسلام کا کام نہیں ہے ،قرآن کریم کہ جو " ﴿إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها وَ جَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِها أَذِلَّةً  "کی یاد دہانی کرواتا ہے تو اس چیز کو ٹھکراتا ہے اور اس کے مقابلے میں با تقوی افراد ،وہ باتقوی کہ جو " أَ فَمَنْ أَسَّسَ بُنْيانَهُ عَلي‏ تَقْوي  " کو بنیاد بناتے ہیں تا کہ تقوے کی بنیاد پر ایک امن و سلامتی والا معاشرہ تشکیل دے سکیں ۔انبیاء کی محنتوں کے جو نتائج قرآن کریم بیان کرتا ہےوہ یہ ہیں کہ یہ لوگ سب سے اچھےاوراحسن نظام کے حامی اور محافظ ہیں ۔ اس میں حضرت داود( سلام اللہ علیہ) اور حضرت سلیمان (سلام اللہ علیہ) کے واقعات بیان کیے گئے ہیں کہ یہ انقلابی رہبر تھے اور انہوں نے انقلاب بر پا کیا اور ایک نیا نظام پیش کیا اور پرانے سر کش نظام کو ختم  کر دیا ؛" وَ قَتَلَ داوُدُ جالُوتَ  "، داود نے جالوت کو قتل کیا ،تب خدا نے داود کو نعمت کی فراوانی سے نوازا کہ جس کا کچھ حصہ وہ علم ہے کہ جو سب علماء کی دسترس میں ہے ،کچھ حصہ مافوق علم ہے جو دسترسی کے قابل نہیں ہے یعنی جو حصولی نہیں ہے کہ جس کے لیے فکر کی گنجائش ہو ۔ بلکہ وہ روح کی قداست سے وابستہ ہے ،ولایت اسی قبیل سے ہے ،معجزہ اور غیبی کرامت بھی اسی قبیل سے ہے ،کہ جس میں فکر کی گنجائش نہیں ہے چونکہ یہ علم حصولی کے قبیل سے نہیں ہے ،بلکہ روح کی قداست سے مربوط ہے ،یہ وہ مقام ہے جہاں دعا قبول ہوتی ہے ۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں کوئی مردے کو زندہ کر سکتا ہے وغیرہ یہ سوچنے والی نظری عقل کا کام نہیں ہے بلکہ روح کی پاکی سے جڑا ہوا کام ہے ۔

حضرت داود (سلام اللہ علیہ) کے سلسلے میں کہ جن کے ذمے انقلاب کی رہبری تھی خدا وند متعال نے فرمایا ؛ " وَ أَلَنَّا لَهُ الْحَديدَ " اور ساتھ ہی فرمایا ؛" وَ عَلَّمْناهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ " ہم نے داود کو قدرت دی کہ ٹھنڈا اور سخت لوہا ان کے ہاتھوں میں نرم ہو جاتا تھا ۔ یہ کام چونکہ روح کی پاکی سے جڑا ہوا ہے لہذا اس کو علم سے تعبیر نہیں کیا ،یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے ان کو تعلیم دی کہ وہ ٹھنڈے اور سخت لوہے کو موم کی طرح نرم کر دیں ،نہیں فرمایا کہ" و علّمناه الانة الحديد "اس لیے کہ لوہے کو نرم کرنا علمی کام نہیں ہے ،یعنی اس میں فکر کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان یہ پوچھے کہ آپ کس طرح لوہے کو ہاتھ سے موم کی طرح نرم کرتے ہو یہ روح کی پاکی ہے لہذا یہ علم حصولی اور درس و بحث کے قبیل سے نہیں ہے ۔لیکن حضرت داود کہ جو رہبر انقلاب تھے ،اور انہوں نے حکومت تشکیل دی تھی انہوں نے اس الہی اور غیبی طاقت سے لوہے پر قابو پایا تھا ،انہوں نے اس لوہے سے امن و سلامتی کی راہ میں استفادہ کیا نہ کہ جنگ و خونریزی کے لیے اس غیبی ہنر اور روح کی قداست سے انہوں نے زرہ تیار کی نہ نیزہ و شمشیر و خنجر اور تیر ،" وَ عَلَّمْناهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ " ہم نے انہیں زرہ تیار کرنے کا طریقہ سکھایا ،اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو طاقت کا استعمال صلح کی راہ میں کرنا چاہیے نہ جنگ کی ، امن کی راہ میں نہ فتنے اور خونریزی کی ، یہ سب کے لیے ایک نمونہ عمل ہے ۔

حضرت سلیمان (سلام اللہ علیہ ) کا ماجرا کہ جو حضرت داود کو خدا کی عنایت تھے  کہ جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے ؛" وَ وَهَبْنا لِداوُدَ سُلَيْمانَ " حضرت سلیمان (سلام اللہ علیہ)" هِبةالله " تھے۔ حضرت داود کے لیے خدا کی اس بخشش اور عطیے نے حکومت تشکیل دی کہ جو بے مثال تھی ،" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي " یہ  بے نظیرسلیمانی حکومت عظیم طاقت کی مالک تھی کہ جن کے تحت تسخیر ایسے امور تھے جو کہ بہت سے بادشاہوں  اور حکمرانوں کو نہ  میسر تھی  اور نہ ہو گي ،لیکن اس عظیم طاقت سے انہوں نے صرف امن و سلامتی کی راہ میں استفادہ کیا خون بہانے والے ہتھیار نہیں بنائے بلکہ سلامتی اور صلح کے وسایل  تیار کیے ،پس یہ باپ اور بیٹا کہ جو دونوں خدا کے رہبروں میں سے تھے انہوں نے حکومت قائم کی اور وہ فوجی امور کی رہبری کرتے تھے دونوں نے اپنے اپنے دور میں امن و امانت داری کے خلاف ،جنگی اور خون بہانے والی ٹیکنالو جی سے استفادہ نہیں کیا ۔

نتیجہ یہ کہ رہبران الہی خدا کی اس آواز کے سامنے کہ جس میں اس نے فرمایا :" وَ اللَّهُ يَدْعُوا إِلي‏ دارِ السَّلامِ " معاشرے کو امن و سلامتی اور مسالمت آمیز زندگی کی جانب دعوت دیتے رہے وہ رہبر کہ جنہوں نے اپنے انقلاب کی رہنمائی کی اور حکومت تک پہنچے ،انہوں نے بد امنی اور خونریزی کی راہ چننے کے بجائے  اپنے تمام امور کو بھی صلح و امنیت کی خاطر انجام دیا اور دوسروں کو بھی اس راہ کی دعوت دی ۔

ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ دنیا ۔ مشرق و مغرب ۔امن و سلامتی کی جانب آگے بڑھے داعش اور ان جیسوں کا شر خود ان کو اپنی لپیٹ میں لے ،اور خدائی نظام ،حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی خاص دعاوں میں شامل ہوں !میں ایک بار پھر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں اور یہ اجتماع منعقد کرنے والوں کی قدر دانی کرتا ہوں ۔

غفر الله لنا و لكم و السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲