اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے بتایا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کی پوتی قیصر جہاں اور ان کے پڑپوتے رستم علی خان سے ان کی ملاقات ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم لیاقت خان کی پہلی بیوی کے صاحبزادے رضا ولایت علی خان نے اربن ایگریکلچر لینڈ کا کلیم کیا تھا جس کے بعد لیاقت علی خان کی اولاد کو سال 1958 ءمیں گوجرانوالہ میں 61 کنال 12 مرلے زمین الاٹ کی گئی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت وقت کی جانب سے الاٹ کی گئی زمین کو گوجرانوالہ امپرومنٹ ٹرسٹ نے اپنی تحویل میں لے لیا جس کے عوض انہیں 28 کنال 8 مرلے زمین دی گئی ۔
مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ لیاقت علی خان کی اولاد کو دی گئی زمین پہلے سے کسی اور کو الاٹ کی جا چکی ہے اور یہ غلطی سے ان کے نام کر دی گئی ہے ۔ معاملہ عدالت میں جانے کے بعد بات سپریم کورٹ تک پہنچی اور1987 ءمیں سپریم کورٹ نے ان کی الاٹمنٹ کو غلط قرار دے کر موقف اپنایا کہ چونکہ یہ زمین پہلے سے الاٹ ہو چکی ہے اس لیے انہیں نہیں دی جا سکتی ۔
مجیب الرحمان شامی نے بتایا کہ گزشتہ 57 سال سے لیاقت علی خان کی اولاد اپنا حق لینے کے لیے ماری ماری پھر رہی ہےاور3 مرتبہ انہیں پہلے سے کم زمین الاٹ کی گئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان جو تقسیم ہند سے قبل 2 ضلعوں پر حکومت کرتے تھے آج ان کی اولاد کرائے کے مکان میں رہ رہی ہے اور انہوں نے خودداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا پر آنے سے انکار کیا ہے ۔ مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ لیاقت علی خان نے اپنی زندگی میں کوئی الاٹمنٹ نہیں کروائی لیکن آج ان کی اولاد انصاف کی تلاش میں ہے ۔ انہوں نے ارباب اختیار سمیت آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے درخواست کی کہ لیاقت علی خان کی اولاد کو ان کے حق سے محروم نہ کیا جائے اور ان کے آبا ؤ اجداد کی پاکستان کے لیے قربانیوں کے پیش نظر رہنے کے لیے چھت فراہم کی جائے تاکہ وہ عزت کی زندگی گزار سکیں ۔
.......
/169