اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ مکارم شیرازی نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے کے شہر قطیف اور دمام کی مسجد امام علی اور مسجد امام حسین علیہما السلام میں ہوئے دھشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
حالیہ دنوں سعودی عرب میں لگاتار دوہفتوں میں شیعہ مساجد کو دھشتگردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنائے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں ایک ہفتے کے فاصلے میں دو شیعہ مساجد کو دھشتگردی کا نشانہ بنایا جانا کھلی جارحیت ہے۔
انہوں نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی حکومت سے یہ سوال پوچھا ہے کہ کیا سعودی حکومت ایسی کاروائیوں پر راضی ہے؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو اسے ان کا سد باب کرنا چاہیے۔ کیوں حکومت شیعوں کی مساجد کی حفاظت نہیں کرتی؟
یمن پر جاری سعودی جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا کہ کیا سعودی حکومت صرف یمن میں مظلوم عوام کا قتل عام کرنے کی توانائی رکھتی ہے اور اپنے ملک کے باشندوں کی حفاظت نہیں کر سکتی؟
آیت اللہ مکارم شیرازی نے مزید کہا ہے کہ سننے میں آیا ہے کہ سعودی حکومت نے ان دھشتگردانہ حملوں کی مذمت کی ہے اگر ایسا ہے تو کیوں ان کے مفتی شیعوں پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں اور ان کے جان و مال کو مباح قرار دے کر اس طرح کے وحشیانہ اقدامات کے لیے جاہل لوگوں کو ابھارتے ہیں؟ کیوں یہ لوگ اسلام کو اس طرح سے بدنام کر رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اس طرح سے مسلمانوں کا نماز کی حالت میں قتل کرنا کون سے مردانگی اور شجاعت ہے؟
آیت اللہ مکارم شیرازی نے اقوام متحدہ کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ تو سو رہی ہے لیکن کیا انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے دیگر عالمی ادارے بھی اقوام متحدہ کی طرح محو خواب ہیں؟ اگر ایران میں ایک جاسوس کو پکڑ لیا جائے تو پوری دنیا میں شور شرابا مچ جاتا ہے لیکن ان مظالم پر سب نے چپ سادھ رکھی ہے!
انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ علاقے کے غیرتمند لوگ ان جرائم کو جڑوں سے اکھاڑیں پھینکیں گے اور امت مسلمہ پیار و محبت کی زندگی جئے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران سعودی عرب کے مشرقی شہروں قطیف اور دمام میں شیعہ مساجد پر نماز جمعہ کے دوران ہوئے دھشتگردانہ حملوں میں پچیس نمازی شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲