26 مئی 2015 - 20:55
 سعودی عرب نے جرائم کے میدان میں مغلوں کا ریکارڈ توڑ دیا

بیروت میں مظلوم قوموں سے اظہار ہمدردی اور تکفیری دھشتگردی کے ساتھ مقابلے کے لیے راہ حل تلاش کرنے کی غرض سے ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بیروت میں مظلوم قوموں سے اظہار ہمدردی اور تکفیری دھشتگردی کے ساتھ مقابلے کے لیے راہ حل تلاش کرنے کی غرض سے ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
یہ اجلاس جو تیونس، عراق، شام، مراکش، سوڈان، موریطانیہ، کویت، کینیا، لبنان اور ایران سے آئے ہوئے ۵۰ علمائے اسلام کی موجودگی میں منعقد ہوا اس میں علماء اور اہم شخصیات نے دھشتگردی سے نمٹنے کے طریقوں پر گفتگو کی۔
عالم اسلام میں شیعوں کی عام صورتحال، شیعوں کو در پیش چیلنجیز، تکفیری اور وہابی انتہاپسندی اور دھشتگرد ٹولیوں سے مقابلہ کے نئے راستے اس اجلاس کے اہم موضوعات میں سے تھے۔
اس اجلاس میں اہل (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے خطاب کرتے ہوئے کہا: افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت عالم اسلام مخصوصا عرب ممالک کو تکفیری دھشتگردوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے یمن پر سعودی جارحیت کو مغلوں کے جرائم کے جیسا قرار دیتے ہوئے کہا: افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مسلمان ممالک نہ صرف سعودی عرب کے جرائم کی مذمت نہیں کرتے بلکہ اس کی تائید کرتے اور اس کو تشویق دلاتے ہیں۔
آقائے اختری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ملت یمن کا صرف اتنا قصور ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ بغیر آل سعود کی دخالت کے اپنی سرنوشت کا تعین کریں، کہا: سعودی عرب کے جرائم اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ بعض دیگر مملک کی طرح دھشتگردوں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔
انہوں نے آخر میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا  ہے کہ وہ  علاقے میں تکفیری جرائم کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲ْ