22 مئی 2015 - 13:46
اگر ایران سعودی عرب کو پیٹنا شروع کر دے تو امریکہ اسے نہیں بچا سکتا

امریکہ کے سابق وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے یمن کی جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دے کر ایک بڑی غلطی کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے سابق وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے یمن کی جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دے کر ایک بڑی غلطی کی ہے۔
کولن پاول نے فاکس نیوز ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہمیں ’’سلمان‘‘ اور ان کے بیٹے کے وعدوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے تھا انہوں نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ یہ جنگ دس دن سے آگے نہیں بڑھے گی اور سعودی عرب کی فوج ساتویں دن صنعا میں داخل ہو جائے گی!
انہوں نے کہا: لیکن ان کے وعدے کا نتیجہ بحران بن گیا ہے آج جنگ کو ۴۲ دن ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی ہم سن رہے ہیں کہ وہ اپنے اتحادیوں سے مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جارج بش کی حکومت کے وزیر خارجہ نے یمن کے لوگوں کی حیرت انگیز مزاحمت اور مقاومت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یمنیوں نے ایک ایسی نامعلوم صورتحال پیدا کر دی ہے کہ اب کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ یمنی سعودی عرب کے سرحدی شہروں میں داخل ہو گئے ہیں اور سعودی فوج کو قتل کر کے ان کا اسلحہ چھین رہے ہیں۔
جنرل پاول نے یمن کے مظلوم عوام پر حملے کے لیے امریکہ کی جانب سے کی گئی مدد کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: اس کے باوجود کہ ہم نے سعودی عرب کی بھاری مقدار میں فوجی اور لاجسٹک مدد کی لیکن ہماری غلطی یہ تھی کہ ہم نے کمزور فوج پر اور ایسے وزیر دفاع پر اعتماد کیا جو لفظ جنگ کا صحیح مطلب بھی نہیں سمجھتا۔
امریکہ کے سابق جنرل نے آخر میں سعودی عرب کو نصیحت کرتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ دشمنی چھوڑ دے کہا: سعودی عرب کے پاس ایران سے خفیہ رکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور ایران سعودی عرب کو چند گھنٹوں میں عصر صنعت سے ماقبل کی طرف لوٹا سکتا ہے۔
جنرل پاول نے کہا: میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ اگر ایران، سعودی عرب پر حملہ کرے تو ہم سعودی عرب کو ایران کے ہاتھوں نہیں بچا پائیں گے حتی سعودی عرب کے پاس شاید ایک ٹیلیفون لائن تک باقی نہ بچے جس سے وہ ہمیں فون کر سکے!
اسی دوران باراک اوبامہ نے بھی نیویورک ٹائمز سے گفتگو میں خلیج فارس کے ممالک کی ایران کے مقابلے میں امریکہ سے مدد کی درخواست پر کہا: ان ممالک کو خود ان کے اندر سے خطرہ لاحق ہے جوانوں کی بے روزگاری، حکام کی نسبت لوگوں میں نفرت کا پایا جانا، تکفیری افکار اور اس بات پر عقیدہ کہ سوائے جنگ و جدال کے کوئی دوسرا راہ حل نہیں پایا جاتا وہ عوامل ہیں جو ان ممالک کے لیے خود اندرونی طور پر خطرات ہیں اور ان ملکوں کو ہلاکت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲