اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے محمد مرسی کو سزائے موت سنائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس ملک کی قدیم اور تاریخی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا خیال ہے بعض مشکلات و مسائل کو مصر کے عوامی انقلاب کے اعلی مقاصد کی بنیاد پر اور سیاسی و سماجی تحریکوں کے درمیان سیاسی اتفاق رائے اور قومی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے-
مصر کی ایک عدالت نے محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے ایک سو ارکان کو دو ہزار گیارہ کی عوامی تحریک کے دوران جیل توڑنے اور بعض پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے-
مرضیہ افخم نے کہا کہ تشدد کی حوصلہ کرنے والا اس قسم کا فیصلہ مصر کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا اور ہمیں امید ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے اجتناب کیا جائے گا-
انسانی حقوق کے بہت سے اداروں نے محمد مرسی کو سزائے موت دینے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے-
محمد مرسی کو اس سے قبل دو ہزار بارہ میں مظاہرین کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں بیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی-
جولائی دو ہزار تیرہ میں اس وقت کے وزیر دفاع اور موجودہ صدر جنرل عبدالفتاح السیسی نے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اس کا خاتمہ کر دیا تھا-
.......
/169