اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ریاض کانفرنس میں شریک سفارتی ذرائع نے، یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے میدان سیاست سے باہر ہونے اور اختیارات اپنے نائب خالد بحاح کے حوالے کرنے کو اس کانفرنس کے اہم ترین ممکنہ فیصلوں میں سے قرار دیا ہے- سعودی عرب نے جو کام علی عبداللہ صالح کے ساتھ کیا اب وہی کام وہ منصور ہادی کے ساتھ کرنے جا رہا ہے-
ریاض کی نام نہاد کانفرنس کے تحت منصور ہادی کے جانشین کے طور پر خالد بحاح کو یمن کے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی-
ریاض کانفرنس میں شرکت کرنے والے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کانفرنس میں کیا جانے والا اہم ترین فیصلہ یمن کے مستعفی اور مفرور صدر کی اپنے نام نہاد عہدے سے علیحدگی اور اپنے اختیارات خالد بحاح کے حوالے کرنا ہے-
رپورٹ کے مطابق منصور ہادی اس سلسلے میں اپنی آمادگی کا اعلان کریں گے اور اپنے اختیارات خالد بحاح کے حوالے کر دیں گے- وہ شمالی یمن کی ایک شخصیت کو خودساختہ حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپیں گے کہ جو بظاہر ایک جامع قومی سمجھوتے کے مطابق سیاسی گروہوں کو متحد کرنے اور یمن کی نئی فوج کے قیام کے لیے کام کرے گی-
اس رپورٹ کے مطابق مجوزہ خارجہ تعلقات کی کمیٹی روس، چین، یورپی یونین، امریکہ اور بعض بااثر ملکوں میں بھیجی جائے گی تاکہ وہ یمن میں حالات کی حقیقت بتا سکے اور ان ممالک سے اپیل کرے کہ وہ خالد بحاح کی خود ساختہ حکومت کی حمایت کریں-
واضح رہے کہ یمن کے بارے میں ایک کانفرنس اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شروع ہوئی ہے- تحریک انصار اللہ اور یمن کے بہت سے گروہوں اور جماعتوں نے یمن پر حملے اور جارحیت میں سعودی عرب کے مرکزی کردار کے پیش نظر ریاض کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا ہے-
.......
/169