16 مئی 2015 - 07:55
کیمپ ڈیویڈ کانفرنس کا بیان، شریک ملکوں کے قول و فعل میں تضاد کا مظہر

ایران نے کہا ہے کہ کیمپ ڈیویڈ کانفرنس کا بیان، شریک ملکوں کے قول و فعل میں تضاد پائے جانے کا مظہر ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کیمپ ڈیویڈ کانفرنس کے اختتامی بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے- انھوں نے کہا کہ ایران علاقے میں اغیار کی مداخلت اور مسائل کو فوجی طریقے سے حل کئے جانے کے خلاف رہا ہے- ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یمن پر فوجی حملہ، اس ملک کے خلاف جارحیت ہے اور اس حملے پر امریکی حمایت بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے- انھوں نے کہا کہ یمن پر حملہ، خود کیمپ ڈیویڈ بیان کی بھی بعض شقوں کے منافی ہے- مرضیہ افخم نے کہا کہ کیمپ ڈیویڈ کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک کو چاہیئے کہ اپنے قول و فعل پر توجہ دیں جو تضاد کا مظہر ہیں- انھوں نے کہا کہ علاقے میں عدم استحکام سے متعلق ایران کے خلاف عائد کیا جانے والا الزام، بالکل بے بنیاد ہے- ایران کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ایران، علاقے میں امن و استحکام کے قیام اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے- انھوں نے کہا کہ علاقے میں عدم استحکام کے ذمہ دار، وہ ممالک ہیں جنھوں نے پڑوسی ملک کو جارحیت کا نشانہ بنا کر دہشتگردی کے خلاف مہم کو خطرے سے دوچار کردیا ہے- مرضیہ افخم نے کہا کہ اس وقت علاقے کا اہم ترین مسئلہ، بڑھتی ہوئی تکفیری دہشتگردی ہے کہ جس کے خلاف موثر اقدامات عمل میں لائے جانے کی ضرورت ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲