اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نائب صدر اور ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت چھٹے اقتصادی، ثقافتی اور معاشی منصوبے پر جوہری مذاکرات کے اثرات کا جائزہ لی رہی ہے اور اس کے نفاذ کے حوالے سے تین لائحہ عمل بھی تیار کئے گئے ہیں.
يہ بات نائب ايراني صدر 'محمد باقر نوبخت' نے گزشتہ روز ايراني صوبہ 'شہركرد' كے دورے كے موقع پر صحافيوں سے گفتگو كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر انہوں نے تيار كئے گئے تين لائحہ عمل كے حوالے سے كہا كہ پہلا يہ كہ موجودہ صورتحال پر ہم اپنے اقدامات جاري ركھتے ہوئے تمام امور كے حوالے سے بنائے گئے پروگراموں پر كام كريں گے.
انہوں نے مزيد كہا كہ دوسري حالت يہ ہے كہ مذاكرات ناكام ہونے كي صورت ميں ايراني حكومت اس صورتحال پر سمجھوتہ نہ كرتے ہوئے اپنے منصوبے كي طرف آگے بڑھے گي.
حكومتي ترجمان نے تيسرے لائحہ عمل كے حوالے سے كہا كہ اس مرحلے ميں ہم جوہري مذاكرات كو كامياب ہوتے ہوئے ديكھيں گے اور اس مرحلے ميں اميد ہے ايران كے منجمد اساسہ جات بحال ہوجائيں گے.
انہوں نے مزيد كہا كہ مذاكرت كامياب ہونے كے بعد 100 ارب ڈالر آئندہ سالوں تك ايران ميں لايا جائے گا جس كي وجہ سے سرمايہ كاري كي صورتحال بھي قابل قدر بہتر ہوجائے گي.
انہوں نے كہا كہ ايراني جوہري مذاكراتي ٹيم كے اركان آٹھ سالہ مسلط شدہ جنگ ميں وطن عزيز كا دفاع كرنے والے شہيدوں اور غازيوں كي طرح جد و جہد كررہے ہيں.
سبسڈي مسائل كے حوالے سے نائب ايراني صدر نے كہا كہ ايراني 1394 سال كے بجٹ كو مد نظر ركھتے ہوئے سبسڈي اٹھانے والے منصوبے كو آگے بڑھائيں گے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲