اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر اعظم اور کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ کے دفتر کی جانب سے جمعے کے دن جاری ہونے والے بیان میں آیا ہے کہ اس پارٹی کے سینئر رہنما فلیپ ہیمنڈ بدستور وزیر خارجہ کے عہدے پر کام کرتے رہیں گے- فلپ ہیمنڈ کو گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا تھا- برطانوی وزیر اعظم نے یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے بارے میں ریفرینڈم کرائے جانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے پیش نظر لندن کے یورپی شرکا کے ساتھ اشتراک عمل کے سلسلے میں فلپ ہیمنڈ کی ذمےداری بہت بڑھ گئی ہے-
ڈیوڈ کیمرون نے اس سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں سنہ دو ہزار سترہ میں یورپی یونین سے برطانیہ کے خارج ہو جانے کے بارے میں ریفرینڈم کرائیں گے- ڈیوڈ کیمرون نے جمعے کے دن کنزرویٹو پارٹی کی سینئر رہنما تھیریسا میری مے کو بھی ایک بار پھر وزیر داخلہ کے عہدے پر بحال رکھا ہے- بلاشبہ ان کی وزارت کے دوران ان کا ایک اہم کام مہاجرت کے مسئلے پر قابو پانے اور انتہاپسندی کے مقابلے سے متعلق ڈیوڈ کیمرون کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہو گا-
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی سابقہ کابینہ میں وزیر خزانہ جارج اسبورن اور وزیر دفاع مائیکل فالون کو نئی کابینہ میں بھی ان کے عہدوں پر برقرار رکھا ہے- واضح رہے کہ برطانیہ میں جمعرات کے دن ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو پارٹی نے ساڑھے چھ سو میں سے تین سو اکتیس نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی ہے اور مزید پانچ سال کے لئے برطانیہ میں اسی پارٹی کی حکومت ہو گی-
.......
/169