6 مئی 2015 - 18:16
 ایران دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا/ امریکہ نے سعودی جرائم کی حمایت کر کے ذلت کا مظاہرہ کیا

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح ملک بھر کے ہزاروں اساتذہ ،وزیر تعلیم اور وزارت تعلیم کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: امریکہ نے یمن پر سعودی عرب کے ہولناک ، ظالمانہ ،سفاکانہ اور وحشیانہ جرائم کی حمایت کرکے اپنی ذلت اور رسوائی کا مزید ثبوت فراہم کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح (بروز بدھ) ملک بھر کے ہزاروں اساتذہ ،وزیر تعلیم اور وزارت تعلیم کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں وزارت تعلیم کے بےبدیل اور بےمثال مقام و منزلت کی تشریح کی اور مؤمن ، دانا، صاحب نظر، خوداعتماد ، پرنشاط اور امیدوار نسل کی تربیت میں استاد کی تاثیر اور اعلی اہداف کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں  وزارت تعلیم میں بنیادی تحول و تبدیلی کی دستاویز کے مکمل اور منسجم نفاذ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حکومت بالخصوص اقتصادی حکام کو چاہیے کہ وہ وزارت تعلیم اور اساتذہ کے معاشی مسائل کے سلسلے میں دوسرے اداروں کی نسبت خصوصی توجہ مبذول کریں ، اور انھیں اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ وزارت تعلیم اور اساتذہ پر ہونے والے اخراجات در حقیقت آئندہ کے لئے سرمایہ کاری اور ملکی قدر و قیمت میں اضافہ کا باعث ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مذاکرات کے ہمراہ امریکی حکام کی جانب سے حالیہ دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میں دھمکی کے سائے میں مذاکرات کے حق میں نہیں ہوں ۔ خارجہ پالیسی کے حکام اور ایرانی مذاکراتکاروں کو چاہیے کہ وہ اصلی اور ریڈلائنوں کی دقیق  رعایت کریں اور انھیں مذاکرات جاری رکھنے کے ساتھ ایرانی قوم کی عظمت اور ہیبت کا دفاع بھی کرنا چاہیے اور انھیں کسی بھی دھمکی، تحقیر اور منہ زوری کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں شہید آیت اللہ مظہری کی یاد تازہ کی اور خلوص، محنت و جد وجہد کے ہمراہ ان کے معلم اور استاد ہونے کی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا اور ملک کے مستقبل کی تعمیر و ترقی میں وزارت تعلیم کے بے نظیر اور بے مثال نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وزارت تعلیم میں ، ملک کی آئندہ نسل اور طلباء کی فکری و روحی شخصیت کی تشکیل میں استاد کا مرکزی اور مؤثر کردار ہوتا ہے حالانکہ ایسے اثرات گھر کے ماحول میں ماں باپ بھی طلباء پر مرتب نہیں کرسکتے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک کے مستقبل میں اساتذہ اور معلمین کے مقام و منزلت کے پیش نظر ، اس شعبے میں ہرقسم کے اخراجات در حقیقت سرمایہ کاری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس زاویہ نگاہ سے وزارت تعلیم کے اقتصاد کے لئے منصوبہ بندی پر تاکید کی  اور ممتاز شخصیات اور بزرگ انسانوں کی تربیت میں استاد کے نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مؤمن ، دانا، خوداعتماد آئندہ کے سلسلے میں امیدوار ، بانشاط ، صاحب نظر ، با ارادہ اور جسمی اور روحی سلامتی کے حامل افراد کی تربیت کو استاد کی اہم ذمہ داری قراردیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: استاد کی ذمہ داری درحقیقت برتر اور بلند و بالا معاشرے کی تشکیل ہے اور یہ ذمہ داری انبیاء (ع) کی ذمہ داری کے سلسلے کی کڑی ہے جو تعلیم اور تذکیہ و پاکیزگی نفس پر مشتمل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اساتذہ کی رسالت کے محقق ہونے کے لئے بعض مسائل اور شرائط کی فراہمی کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: ان میں ایک شرط اساتذہ کی معاشی صورتحال پر توجہ مبذول کرنا ہے اور حکومت باخصوص اقتصادی شعبہ کے حکام کو چاہیے کہ وہ بعض محدودیتوں کے باوجود وزارت تعلیم اور اساتذہ کے معاشی مسائل پر خصوصی توجہ دیں اور اس مسئلہ کو اپنی ترجیحات میں قراردیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلام نے اساتذہ کی معیشت کے مسئلہ پر غفلت کرنے سے دشمنوں کے سؤ استفادہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: البتہ اساتذہ مؤمن، نجیب، ہوشیار اور آگاہ افراد ہیں اور وہ دشمن کی سازشوں اور اسلامی نظام کے بارے میں ان کی عداوت اور دشمنی کے بارے میں آگاہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ اساتذہ کی معیشت کو بہانہ بنا کر اختلافی ، سیاسی اور حزبی نعرے لگوائیں اوراس طرح اسلامی نظام کے لئے مشکل کھڑی کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اساتذہ یونیورسٹی ( دانشگاہ فرہنگیان) کے معاملے کو بھی اساتذہ کی تربیت اور انتخاب کے حوالے سے بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: اس یونیورسٹی کے تمام اقدامات بالخصوص اساتذہ کے انتخاب کی صلاحیتوں کا جائزہ ، کورس ، فیکلٹی ممبراناور اساتذہ کا انتخاب صحیح و سالم اور اسلام و انقلاب کے معیاروں کے مطابق ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے وزارت تعلیم میں تحول و تبدیلی کی جامع دستاویز اور ممتاز و زبدہ ماہرین کی جانب سے اس کی تائید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس دستاویز کے نتیجہ بخش ہونے کے لئے اس کے مواد کا مکمل اور منسجم نفاذ بہت ضروری ہے۔ اگر وزارت تعلیم میں اس بنیادی تبدیلی کی دستاویز کا کچھ حصہ نافذ کیا جائے اور کچھ حصہ کو نظر انداز کردیا جائے تو اس طرح یہ دستاویز مؤثر واقع نہیں ہوگی اور کوئی تبدیلی ظاہر نہیں ہوگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے وزارت تعلیم کے اہلکاروں اور اساتذہ کو اس دستاویز کے بارے میں آگاہ اور آشنا کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اس سلسلے میں تبلیغاتی اداروں بالخصوص ریڈیو اور ٹی وی کو وزارت تعلیم کی مدد کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے چھٹے منصوبہ کی ظرفیت سے استفادہ پر تاکید کی جو آئندہ کلی پالیسیوں کی بنیاد پر تدوین ہوگا اور اس منصوبے میں وزارت تعلیم میں بنیادی تحول اور تبدیلی پرخصوصی توجہ پر تاکید کی اور وزارت تعلیم کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ہوشیار اور آگاہ رہیں کہ کہیں سطحی اور روزمرہ کے منصوبے وزارت تعلیم میں بنیادی تحول کی جگہ نہ لےلیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں  ایٹمی مذاکرات کے ہمراہ  ایرانی قوم کے ساتھ امریکی حکام کی حالیہ رفتار کے بارے میں اہم نکات بیان کئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ناقابل انکار حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: گذشتہ 35 سال کے دوران اسلامی نظام کے دشمنوں نے بہت زیادہ رجز خوانی کی لیکن ہمیشہ ان کی نظر ایرانی قوم کی عظمت اور ہیبت پر مرکز رہی ہے۔

ایٹمی مذاکرات میں بھی ایرانی قوم کی ‏عظمت اور ہیبت مد نظر رہنی چاہیے اور ہم ایسےمذاکرات کو قبول نہیں کریں گے جو دھمکی اور منہ زوری کے سائے میں ہوں ، امریکیوں نے یمن پر سعودی عرب کے جنگی جرائم کی حمایت کرکے اپنی ذلت اور رسوائی کا مزید ثبوت فراہم کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲