اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر نے ملک میں کتابوں کی نشر کے اصولوں کو شفاف، مختصر اور غیرجانبدرانہ ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دین اسلام کی اصل اور حقیقی زبان تلوار نہیں بلکہ کتاب ہے.
يہ بات حجت الاسلام و المسلمين 'حسن روحاني' نے منگل كے روز 'تہران' ميں منعقدہ 28ويں بين الاقوامي كتاب ميلے كي افتتاحي تقريب سے خطاب كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ كتابوں كي نشر كے مراحل كو شفاف ركھتے ہوئے كسي بھي امتيازي سلوك سے پرہيز كرنا چاہئے.
انہوں نے مزيد كہا كہ كتابوں كي نشر كي فضا كو پرامن اور آزاد ركھنا چاہئے تاہم اس عمل كے دوران اپنے قومي مفاد اور اسلامي تشخص كا بھي مكمل طور پر توجہ ركھنا چاہئے.
كتاب كي اہميت كے حوالے سے حضرت محمد (ص) اور ائمہ اطہار عليھم الاسلام كي تعليمات اور فرمان كا ذكر كرتے ہوئے ايراني صدر نے كہا كہ ہمارا منطق كتاب ہے تاہم ہمارے دين اسلام كي زبان بھي كتا ہے اور قرآن، آيات، حضور پاك (ص) كے فرامين، صحابہ كرام اور اماموں كي تعليمات كے ذريعے سے ہي ہم اسلام كا پرامن اور حقيقي چہرہ دنيا كو متعارف كراسكتے ہيں.
تہران بين الاقوامي كتاب ميلے كے انعقاد پر اظہار اطمينان كرتے ہوئے حسن روحاني نے مزيد كہا كہ 3 لاكھ قومي اور غيرملكي كتابوں كي نمائش اور ہزاروں كي تعداد ميں اندروني اور بيروني ناشريں كي اس ميلے ميں شركت ہمارے لئے باعث فخر ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ معاشرے ميں كتاب كے ثقافت اور كتاب پڑھنے كے رجحان كو زيادہ تر فروغ دينا چاہئے اور اس حوالے سے ميڈيا بھي اہم كردار ركھتے ہيں.
اس موقع پر علاقائي بحران كا ذكر كرتے ہوئے ايراني صدر نے عالمي برداري سے مطالبہ كيا كہ خطے كي تشويشناك صورتحال پر سنجيدگي اختيار كريں اور اس خطے كو اپنے ھتھياروں كي فروخت كي جگہ نہ بنائيں.
28ويں تہران بين الاقوامي ميلے كي افتتاحي تقريب ميں ايراني صدر كے علاوہ، وزير ثقافت اور اسلامي گائيڈنس، تہران ميں تعينات غيرملكي سفرا اور سفارتكار سميت ايراني مجلس كے اركان شريك تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲