اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق کوبانی کے کرد حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے تباہ کن حملوں کے سبب کوبانی اور اس کے اطراف میں بسنے والے تین لاکھ افراد جو بےگھر ہو گئے تھے، ان میں سے صرف ستر ہزار ہی اپنے گھروں کو لوٹے ہیں اور وہ بھی ان علاقوں کی ابتر صورتحال کے باعث اپنی واپسی پر پشیمان ہیں۔ ایسوشی ایٹڈ پریس نے کوبانی شہر کے بارے میں جو تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے اس میں لکھا ہے کہ ابھی اس شہر میں پینے کا صاف پانی،بجلی اور روز مرہ کی بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں ہیں۔ کوبانی میں داعش اور کردوں کے درمیان گھمسان کی جنگ میں دو ہزار دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ پانچ سو ساٹھ کرد ملیشیا کے جوان بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ شامی کردوں کی ڈیموکریٹک یونین پارٹی ( پی وائی ڈی) کی ایک رہنما عائشہ افندی نے کہا ہے کہ اب تک ستر ہزار افراد کوبانی اور اس کے اطراف کے دیہاتوں میں لوٹ آئے ہیں لیکن اپنے گھروں کے مکمل تباہ ہو جانے کے سبب انھوں نے خیمے لگا رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ زدہ شہر کو بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوبانی شہر کے بعض حصے میوزیم میں تبدیل کر دیئے جائیں تاکہ آئندہ کی نسلیں جان سکیں کہ اس شہر پر کیسی بلا نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے شہر میں بارودی مواد نصب کر رکھا ہے کہ جسے کم وسائل کے ساتھ ناکارہ نہیں بنایا جا سکتا اور جب تک اسے ناکارہ نہیں بنایا جاتا کوبانی کے باشندوں کی اپنے گھروں کو واپسی ممکن نہیں ہے۔
.......
/169