اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عالمی
فوجداری عدالت نے آخرکار موجودہ صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر جنگ یوآف
گالانت کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ اس حکم پر الجزیرہ چینل کا تبصرہ:
ایک سنجیدہ خطرہ، جو غیظ و غضب اور شدید رد عمل
کا باعث ہؤا؛ یہ وہ چیز ہے جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جنگی جرائم،
انسانیت کے خلاف جرائم، اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے جیسے جرائم کی
بنیاد پر، وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر جنگ يوآف گالانت کی گرفتاری کے حکم
کے بعد، تل ابیب میں، تل ابیب میں دکھائی دے رہی ہے۔ یہ وہ الزامات ہیں جو اس عمل
کی تکمیل کے ضمن میں سامنے آئے ہیں جو مذکورہ عدالت غزہ کے خلاف جنگ کے سلسلے میں
انجام پا رہا ہے؛ وہ جنگ جو گذشتہ 400 دنوں سے جاری ہے۔
لیکن عملی طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی
طرف سے گرفتاری کے ان عدیم المثال احکامات کے اجراء کے بعد کس چیز کی توقع کی جا
رہی ہے۔ ماضی میں گرفتاری کے اسی قسم کے احکامات کے "عدالتی فیصلہ برائے بیانِ
دلائل" کے عنوان سے جاری ہؤا کرتے ہیں اور رکن ممالک اور کبھی اقوام متحدہ کی
سلامتی کونسل سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے نفاذ میں تعاون کریں۔ متعلقہ
ممالک ـ جس کا مصداق یہاں اسرائیلی ریاست ہے ـ اس فیصلے کے متن اور مندرجات کے
سلسلے میں اطلاع اور تنبیہ کی جاتی ہے اور اس سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ اس فیصلے کو
لاگو کرے۔
کچھ چیزیں عمومی طور پر شائع کی جاتی ہیں، جو
مطلوبہ شخص (Wanted Person) سے متعلق معلومات، اس پر
مقدمہ چلانے کی وجہ اور اس کی موجودہ اور متوقعہ پوزیشن پر مشتمل ہوتی ہیں۔
نظری اعتبار سے (Theoretically)، جس کے بارے میں یہ احکامات جاری ہوتے ہیں، ان 124 ممالک کے دورے
پر نہیں جا سکے گا جنہوں نے اس عدالت کی بنیادی دستاویز پر دستخط کئے ہيں۔ یہاں تک
کہ وہ ان ممالک کی فضائی حدود سے نہیں گذر سکے گا لیکن ہر ملک [چاہے وہ اس عدالت
کا رکن ہو یا نہ ہو] اپنے سیکورٹی اداروں کے ذریعے اس شخص کو گرفتار کرنے یا نہ
کرنے کا حق رکھتا ہے، کیونکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پاس کسی کے تعاقب، طلب
کرنے، قابو میں رکھنے یا گرفتار کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن اس عدالت کے قانون
کے آرٹیکل 89 کی شق نمبر 1 میں قرار دیا گیا ہے: "رکن ممالک کو مجرم کی
گرفتاری اور تحویل کے سلسلے میں درخواست شدہ احکامات کو قبول کر لینا
چاہئے"'؛ اور اگر اس فیصلے سے تعلق رکھنے والے افراد اعلی سطحی حکام ہوں، تو
آرٹیکل 27 میں قرار دیا گیا ہے کہ "گرفتاری اور تحویل کے حوالے سے عدالت کے
احکامات کے نفاذ کے حوالے سے مطلوب افراد کے منصب اور عہدے کو خاطر میں نہ لایا
جائے"۔ لیکن یہ مادہ صرف رکن ممالک پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بین
الاقوامی عدالتی معمولات کے مطابق، "بین الاقوامی عدالتوں کے مقابلے میں عہدہ
دار افراد اور صاحب منصب افراد کے لئے اسثنا کی پابندی، جائز نہیں ہے"۔ تاہم
متعلقہ ممالک کی عدالتوں کو ـ ملزم کے لئے اسثنا کی منسوخی کے بعد ـ اس پر مقدمہ
چلانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
پس زمینه و علل پیگردهای کیفری برای مسئولان
اسرائیلی به نوامبر سال گذشته بازمیگردد
پس زمینه و علل پیگردهای کیفری برای مسئولان
اسرائیلی به نوامبر سال گذشته بازمیگردد.
اسرائیلی حکام کے خلاف فوجداری مقدمات کا پس
منظر اور اسباب گذشتہ سال نومبر کی طرف پلٹتے ہیں۔
جب عدالت نے اعلان کیا کہ پانچ ممالک نے غزہ کی
پٹی پر اسرائیلی جنگ کے حقائق اور اثرات کے سلسلے میں تحقیق و تفتیش کی درخواست دی
ہے اور متعلقہ فوجی فیصلوں اور اقدامات سے متعلق دستاویزات اس عدالت کی تحویل میں
دی ہیں، تاکہ یہ عدالت تفتیش اور تحقیق کا آغاز کرے۔
سوال: کیا اس سے پہلے بھی فوجی یا سیاسی حکام کو
اسی طرح کے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
- مارچ سنہ 2009ع میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اس وقت کے
سوڈانی صدر عمر البشیر کی گرفتاری کا حکم جاری کیا، لیکن عدالت کے رکن افریقی
ممالک نے عمر البشیر کے ان ممالک کے دورے کے وقت، انہیں گرفتار کرنے کا حکم مسترد
کر دیا۔
مارچ سنہ 2023ع میں اس عدالت نے یوکرین کی جنگ
کے حوالے سے روسی صدر کے خلاف گرفتاری کا حکم دیا، یہ ایسا حکم تھا کہ تیزرفتار
اجراء کی وجہ سے، تسلسل کے ساتھ اس کا موازنہ غزہ کے مسئلے سے کرایا گیا اور اس کا
حوالہ دیا جاتا رہا۔ غیر معمولی گرفتاری کے وارنٹ کے برعکس، یورپی ممالک کے تعاقب
کے احکامات نے اسرائیلی حکام کو ناراض کر دیا۔
سنہ 1993ع میں، بلجیئم میں "عالمی فوجداری
جرائم کے دائرہ اختیار کا قانون" جاری کیا گیا جو بیرون ملک انسانی حقوق کی
خلاف ورزیوں کی بنا پر غیر ملکی حکام کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا تھا۔
سنہ 2001ع کے وسط میں ایریل شارون کے خلاف [جنگی
جرائم کے ارتکاب کی بنیاد پر] ایک شکایت قبول کی گئی، یہ شکایت صبرا اور شتیلا میں
شارون کے جرائم سے بچنے والے افراد نے جمع کرائی تھی اور یہ مسئلہ تل ابیب پر شدید
دباؤ کا باعث بنا۔
دسمبر سنہ 2009ع میں برطانیہ کی ایک عدالت نے ـ
سنہ 2008 اور سنہ 2009ع میں غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کے دوران جنگی جرائم کی
بنا پر ـ سابق اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی کی گرفتاری کا حکم سنایا۔ موسم گرما
سنہ زیپی سنہ 2016ع عہدہ چھوڑنے کے بعد لندن کے دورے پر گئی اور اس کو ـ تفتیش کے
لئے ـ باضابطہ طور پر طلب کیا گیا۔ لیکن تل ابیب کی طرف سے دباؤ اور مسلسل رابطوں
کی وجہ سے، یہ دورہ ذاتی دورے سے سرکاری دورے میں بدل دیا گیا اور یوں اس کو اس
وقت عدالتی کاروائی سے نجات ملی۔
ماضی کی اذیت ناک یادیں اور شدید بین الاقوامی
تنہائی کے خدشات فی الوقت، بھی موجود ہیں اور یہ سب اسرائیلی حکام کے اعصاب اور
نفسیات پر دباؤ لا رہے ہیں جنہیں [بین الاقوامی فوجداری عدالت کے احکامات تو موصول
ہوئے ہیں مگر] ابھی تک بین الاقوامی عدالت انصاف میں زیر تفتیش کیسز سے ہنوز نجات
نہیں مل سکی ہے؛ اور [اس وقت] انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت ان کی گھات میں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
110
