17 نومبر 2024 - 15:15
غاصب صہیونیوں کا حملہ؛ حزب اللہ کے میڈیا سیل کے انچارج محمد عفیف النابلسی کی شہادت / مختصر تعارف + تصویری رپورٹ

موصولہ رپورٹوں کے مطابق، صہیونی ریاست نے بیروت کے علاقے رأس النبع پر حملہ کرکے حزب اللہ لبنان کے میڈیا سیل کے انچارج محمد عفیف النابلسی کو شہید کر دیا۔ ایک صہیونی ذریعے نے بتایا ہے کہ بعث پارٹی کی عمارت پر حملے کا اصل مقصد محمد عفیف النابلسی کو نشانہ بنانا تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، الجزیرہ چینل نے ایک سیکورٹی ذریعے سے نقل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صہیونی جارحوں نے بیروت کے علاقے رأس النبع پر بمباری کرکے حزب اللہ کے میڈیا سیل کے انچارج محمد عفیف  النابلسیکو نشانہ بنایا۔

اس رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست نے بیروت کے علاقے رأس النبع میں واقع ـ "شام کی بعث پارٹی" کے ہیڈکوارٹر ـ کو نشانہ بنایا۔ اس بمباری میں پانچ افراد شہید ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بعث پارٹی کے سیکریٹری جنرل اس موقع پر دفتر میں موجود نہیں تھے۔ لیکن ہیڈکوارٹر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ 

لبنان میں شامی عرب سوشلسٹ بعث پارٹی کے سیکریٹری جنرل علی حجازی نے المیادین چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کا یہ حملہ جنگ کے آغاز سے ہی ہمارے خلاف مسلسل دھمکیوں کے تناظر میں ہؤا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نشانہ بننے والی عمارت عرب سوشلسٹ بعث پارٹی سے تعلق رکھتی ہے۔ جنگ کے دوران ہم نے کئی بار اس عمارت میں اجلاس منعقد کئے، یہ ایک جانا پہچانا مقام تھا۔

انھوں نے کہا: دو ماہ قبل غاصب صہیونی ریاست کے لئے جاسوسی کرنے والے ایک کرائے کے ایجنٹ کو گرفتار کیا گیا تو اس نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس کو بعث پارٹی کی تصویریں اتار کر بھیجنے کا مشن سونپا کیا تھا۔

ادھر ڈویلپمنٹ اینڈ لبریشن بلاک کے رکن پارلیمان قاسم ہاشم نے بعث پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر صہیونی حملے اور محمد عفیف النابلسی کی شہادت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی سیاسی سطح، اپنی تمام سیاسی جماعتوں اور قوتوں کے ساتھ، صہیونی دشمن کے نشانے پر ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اسرائیلی فریق جو کچھ کر رہا ہے، وہ تمام اقدار اور تصورات کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے خلاف بغاوت ہے۔

حزب اللہ لبنان کے میڈیا سیل کے انچارج کی شہادت

علی حجازی نے کہا: حزب اللہ لبنان کے میڈیا سیل کے انچارج الحاج محمد عفیف  النابلسی، حادثاتی طور پر عمارت میں موجود تھے اور اس حملے میں جام شہادت نوش کر گئے۔

دریں اثناء، ایک صہیونی ذریعے نے بتایا ہے کہ بعث پارٹی کی عمارت پر حملے کا اصل مقصد محمد عفیف النابلسی ہی کو نشانہ بنانا تھا۔

علی حجازی نے مزید کہا: صہیونی ریاست ابلاغیاتی اور سیاسی لحاظ سے، تمام سطحوں پر، مقاومت کی آواز دبانے کے لئے اس قسم کے حملے کر رہی ہے کیونکہ مقاومت کی آواز ان کا بھیانک چہرہ بے نقاب کر رہی ہے۔

حجازی نے کہا: ہم مقاومت کے ساتھ کھڑے ہیں، خواہ زندہ رہیں خواہ نہ رہیں، مقاومت کامیاب ہوکر رہے گی۔

انھوں نے کہا: الحاج محمد عفیف نے نہ تو اسلحہ اٹھایا، نہ ہی حزب اللہ کسی فوجی یونٹ کی قیادت کر رہے تھے، بلکہ ایک میڈیا یونٹ کے انچارج تھے۔

ادھر صہیونی فوج کے ریڈیو نے بھی محمد عفیف پر صہیونی حکومت کی خبر نشر کی ہے۔

بیروت کا علاقہ "رأس النبع" مختلف مذاہب و ادیان کا مسکن ہے جہاں بہت سارے گرجاگھر اور مساجد موجود ہیں اور عربی سوشلسٹ بعث پارٹی نے اس علاقے کو سنہ 1970ع‍ کی دہائی میں اپنے ہیڈکوارٹر کے قیام کے لئے منتخب کیا تھا۔ صہیونیوں نے آج اسی علاقے میں حزب بعث کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا اور شہید محمد عفیف النابلسی اس حملے کے چند شہیدوں میں شامل تھے۔

الحاج محمد عفیف  النابلسی کا مختصر تعارف

علامہ شیخ عفیف النابلسی (مرحوم) کے فرزند الحاج محمد عفیف النابلسی حزب اللہ کی نمایاں شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے 2006ع‍ کی 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کی ابلاغی کوریج میں نمایاں کردار ادا کیا اور سنہ 2014ع‍ میں حزب اللہ کی مجلس شوریٰ نے متعلقہ اداروں اور یونٹوں سے متعلق تنظيمی فیصلوں کا اعلان کیا تو الحاج عفیف ابلاغی تعلقات یونٹ کے سربراہ بن گئے؛ جبکہ محمد عفیف سنہ 2014ع‍ سے پہلے حزب اللہ کے شہید سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے مشیر برائے ابلاغیات نیز حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار کی سیاسی خبروں اور پروگراموں کے مدیر تھے۔

محمد عفیف حزب اللہ کے بانی اراکین میں شمار ہوتے ہیں اور انھوں نے 40 سال کے عرصے سے تمام تاریخی اور نازک مراحل میں حزب اللہ کا ساتھ دیا۔

مشہور ہے کہ وہ سابق سیکریٹری جنرل شہید سید عباس موسوی کے قریبی دوست تھے، جنہیں سنہ 1992ع‍ میں صہیونی ریاست نے شہید کر دیا تھا۔

الحاج محمد عفیف سیدالمقاومہ اور حزب اللہ کے سابق سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد، حزب اللہ کے باضابطہ ترجمان کی حیثیت سے نمایاں ہوئے اور اس عرصے میں انھوں نے تین نیوز کانفرنسیں منعقد کیں اور انھوں نے آخری نیوز کانفرنس 11 نومبر سنہ 2024ع‍ کو منعقد کی جہاں انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس طویل جنگ لڑنے کے لئے ہتھیاروں کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔

الحاج محمد عفیف  النابلسی حزب اللہ کے میڈیا سیل کے انچارج تھے، ماہر ابلاغیات ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کی صورت حال پر پوری طرح آگاہ تھے، حزب اللہ کی پوزیشن کو تقویت پہنچانے اور ابلاغی اور تشہیری یلغار کے مقابلے میں حزب اللہ کا کامیاب دفاع کرتے تھے۔

وہ حزب اللہ کے ابلاغیات تعلقات کے انچارچ اور حزب اللہ کے باضابطہ ترجمان تھے اور مقاومت کی نمایاں شخصیات میں گنے جاتے تھے۔ انھوں نے حزب اللہ کے موقف پیش کرنے میں عدیم المثال کردار ادا کیا اور حزب اللہ اور ذرائع ابلاغ کے درمیان مثبت تعلقات استوار کئے اور حزب اللہ کے پیغامات کو پیشہ ورانہ انداز سے دنیا والوں کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔

الحاج محمد عفیف نے نیوز کانفرنسوں اور مکالمات کا اہتمام کرکے شفافت ترین طریقے سے حزب اللہ کی حکمت عملیوں اور نظریات کو شفاف ترین انداز سے بین الاقوامی مخاطَبین کو پیش کرتے تھے۔ وہ خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی شعبوں میں حزب اللہ کے موقف کی تشریح کرتے تھے اور اپنی قوت خطاب اور فیصلہ کن لب و لہجے میں حزب اللہ کا پیغام دنیا والوں تک پہنجاتے تھے۔

انھوں نے اپنے تزویراتی تجزیوں کے ذریعے انتہائی کامیابی کے ساتھ مقاومت کے پیغامات کو اس انداز سے پیش کیا کہ دنیا میں حزب اللہ کی علاقائی پالیسیوں کا گہرا ادراک ممکن ہو جائے۔

محمد عفیف نے حالیہ جھڑپوں کے دوران ایک بیان جاری کرکے فلسطینی مقاومت کے لئے حزب اللہ کی فیصلہ کن حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ حزب اللہ بدستور، مسلم اقوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

انھوں نے کہا: کہ جب تک ان اقوام کے حقوق کو خطرہ ہوگا اور جب تک کہ ان اقوام پر بیرونی دباؤ جاری رہے گا، حزب اللہ ان کی پشت پناہی کرتی رہے گی اور ان کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گی۔

محمد عفیف کے اس حتمی موقف سے ایک بار ثابت ہؤا کہ حزب اللہ، بدستور، پورے خطے میں بھی اور خطے سے باہر بھی، مقاومت کے اصولوں کی پابند ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110