9 نومبر 2024 - 07:38
غزہ جنگ میں شہید ہونے والوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران قتل عام کا شکار بننے والے فلسطینی شہریوں کی حیران کن تعداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہزاروں شہداء میں 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کے مطابق، انسانی حقوق کے ادارے (او ایچ سی ایچ آر) کی ایک حالیہ رپورٹ میں حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ کی پٹی میں جعلی صہیونی ریاست کی جنگی کارروائیوں میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی تفصیل سامنے آئی ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کے شہریوں نے حملوں کا سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے جس میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے غزہ کا ابتدائی مکمل محاصرہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست انسانی امداد کو روک لیا ہے، سہولت فراہم کرنے سے انکاری ہے، بنیادی شہری ڈھانچے کو تباہ کر چکی ہے اور فلسطینی عوام کو بار بار بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور کرتی رہی ہے۔

فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے حقوق کے دفتر کی سرگرمیوں کے سربراہ اجیت سنگھے نے عمان سے ویڈیو لنک کے ذریعے کہا کہ غزہ اب ملبے سے بھرا ہوا منظر پیش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں اب تک تقریباً 43 ہزار 500 فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیاں رسائی نہ ہونے کی وجہ سے حماس کے زیر انتظام غزہ میں حکام کی طرف سے فراہم کردہ شہادتوں کی تعداد پر انحصار کر رہی ہیں۔

اجیت سنگھے نے تصدیق کے سخت طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’اب تک 70 فیصد شہید ہونے والے فلسطینی بچے اور خواتین ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ غزہ میں تمام شہادتیں تقریباً 80 فیصد رہائشی عمارتوں یا اسی نوعیت کے مکانات پر غاصب صہیونی ریاست کے حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پانچ سے 9 سال کی عمر کے بچے متاثرین کا سب سے بڑا گروپ ہیں۔

غاصب صہیونی ریاست دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی اپنی سی کوشش جاری رکھتے ہوئے دعوی کرتی ہے کہ غزہ میں اس کی کارروائیاں مقاومتی مجاہدین کو نشانہ بناتی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔

اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ صہیونی خلاف ورزیوں کو روکنے  کے لیے کام کریں اور صہیونی جلادوں کے احتساب کو یقینی بنائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110